உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکسو ایکٹ: الہ آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ- بچوں سے اورل سیکس زیادہ سنگین جرم نہیں

    پاکسو ایکٹ: الہ آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ- بچوں سے اورل سیکس زیادہ سنگین جرم نہیں

    پاکسو ایکٹ: الہ آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ- بچوں سے اورل سیکس زیادہ سنگین جرم نہیں

    الہ آباد ہائی کورٹ نے بچوں کے ساتھ اورل سیکس (Child Sex Abuse) کو پاکسو ایکٹ (POCSO Act) کی دفعہ 4 کے تحت قابل سزا مانا ہے، لیکن عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ ایکٹ سنگین جنسی حملہ نہیں ہے، لہٰذا ایسے معاملے پاکسو ایکٹ کی دفعہ 6 اور 10 کے تحت سزا نہیں سنائی جاسکتی۔

    • Share this:
      پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) نے ایک بچے کے ساتھ ہوئے جنسی استحصال (Child Sex Abuse) کے معاملے میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے بچوں کے ساتھ اورل سیکس کو ’سنگین جنسی حملہ‘ نہیں مانا ہے اور ایسے ہی ایک معاملے میں قصور وار قرار دیئے گئے شخص کو نچلی عدالت سے ملی سزا کم کر دی ہے۔

      الہ آباد ہائی کورٹ نے بچوں کے ساتھ اورل سیکس کو پاکسو ایکٹ (POCSO Act) کی دفعہ 4 کے تحت قابل سزا مانا ہے، لیکن عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ ایکٹ سنگین جنسی حملہ نہیں ہے، لہٰذا ایسے معاملے پاکسو ایکٹ کی دفعہ 6 اور 10 کے تحت سزا نہیں سنائی جاسکتی۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے میں قصوروار کو ملی 10 سال قید کی سزا گھٹا کر 7 سال کردی۔ ساتھ ہی 5 ہزار روپئے کا جرمانہ بھی لگایا۔

      الہ آباد ہائی کورٹ نے سنایا یہ فیصلہ

      واضح رہے کہ سونو کشواہا نام کے شخص نے جھانسی سیشن کورٹ کے اہم فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج دیا تھا، جہاں جسٹس انل کمار اوجھا کی سنگل بینچ نے سونو کشواہا کی سزا کے خلاف اپیل پر یہ فیصلہ سنایا ہے۔ اس سے قبل سیشن کورٹ نے اسے تعزیرات ہند کی دفعہ 377 (غیر فطری جنسی تعلقات) اور دفعہ 506 (مجرمانہ دھمکی کی سزا) اور پاکسو ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت قصوروار ٹھہرایا تھا۔

      پاکسو ایکٹ کے تحت قابل سزا جرم

      عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا نابالغ سے اوورل سیکس اور سیمین ڈراپ پاکسو ایکٹ کی دفعہ 5/6 یا دفعہ 9/10 کے دائرے میں آئے گی۔ عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ یہ دونوں دفعات میں سے کسی کے دائرے میں نہیں آئے گا، لیکن یہ پاکسو ایکٹ کی دفعہ 4 کے تحت قابل سزا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ایک بچے کے منہ میں لنگ ڈالنا ’پینیٹریٹیو جنسی حملے‘ کے زمرے میں آتا ہے، جو جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ ایکٹ (POCSO Act) کی دفعہ 4 کے تحت قابل سزا ہے، لیکن ایکٹ کے سیکشن 6 کے تحت نہیں۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      UP Elections 2022: اسدالدین اویسی کا انتباہ- این پی آر-این آرسی لائے گی حکومت تو سامنے آئے گا دوسرا شاہین باغ


      واضح رہے کہ سونو کشواہا نے ایڈیشنل سیشن جج/ خصوصی جج، پاکسو ایکٹ، جھانسی کے ذریعہ سنائے گئے فیصلے کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں فوجداری اپیل دائر کی گئی تھی۔ اپیل کنندہ کے خلاف معاملہ یہ تھا کہ وہ شکایت کنندہ کے گھر آیا اور اس کے 10 سال کے بیٹے کو ساتھ لے گیا۔ اسے 20 روپئے دیتے ہوئے اس کے ساتھ اورل سیکس کیا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: