ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

عثمانیہ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر قاسم کو پولیس نے کیا گرفتار ، ماونوازوں کے ساتھ تعلقات کا الزام

اسسٹنٹ پروفیسرکے مکان پر پولیس کے چھاپے اوران کی گرفتاری سے عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں کشیدگی دیکھی گئی ، کیونکہ بیشتر طلبہ نے احتجاجی ریلی نکالنے کی کوشش کی ۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 18, 2020 08:20 PM IST
  • Share this:
عثمانیہ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر قاسم کو پولیس نے کیا گرفتار ، ماونوازوں کے ساتھ تعلقات کا الزام
عثمانیہ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر قاسم کو پولیس نے کیا گرفتار

پولیس نے شہر حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر قاسم کے مکان پر چھاپہ مارا اورانھیں گرفتارکرلیا ۔ گجویل پولیس نے عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں واقع اسٹاف کوارٹرس میں تقریبا پانچ گھنٹوں تک ان کے مکان کی تلاشی لی ۔ ذرائع کے مطابق یہ تلاشی ماونوازوں کے ساتھ پروفیسر کے مبینہ تعلقات کی بنیاد پر لی گئی ہے ان کے مکان سے کمپیوٹرہارڈ ڈسک اور کئی دستاویزات ضبط کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔


یہ چھاپہ گجویل اے سی پی نارائن کی قیادت میں مارا گیا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پروفیسر قاسم کے معاملہ کی جانچ 2016 کے ایک معاملہ کے تحت کی جا رہی ہے۔ اس معاملہ میں قاسم ملزم نمبر2 تھے ، جو مُلگ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا ۔ پولیس نے ان کی گاڑی سے انقلابی لٹریچر دستیاب ہونے کا دعوی کیا تھا ۔ اسی معاملہ میں سرچ وارنٹ کے ساتھ دوبارہ تلاشی لی گئی۔


اسسٹنٹ پروفیسرکے مکان پر پولیس کے چھاپے اوران کی گرفتاری سے عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں کشیدگی دیکھی گئی ، کیونکہ بیشتر طلبہ نے احتجاجی ریلی نکالنے کی کوشش کی ۔ اس موقع پر عثمانیہ یونیورسٹی پولیس وہاں پہنچی ، جس نے صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی ۔


اس دوران قاسم کی اہلیہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سال 2016 میں جھوٹے معاملہ میں ماخوذ کرتے ہوئے ان کے شوہر کے خلاف آج کارروائی کی گئی ہے ۔ انھوں نے گرفتاری کی مذمت کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ آج صبح کی اولین ساعتوں میں پولیس کے تقریبا 50 جوان ان کے مکان پر پہنچے اوردروازہ کھٹکھٹایا اور یہ کہتے ہوئے اندر آنے کی اجازت طلب کی کہ ان کے پاس سرچ وارنٹ ہے ۔ خاتون کے مطابق انھوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کا مکان یونیورسٹی کے احاطہ میں ہے ، اس لئے انھیں وائس چانسلر یا رجسٹرار کی اجازت حاصل کرنی چاہئے ۔ لیکن وہ دروازہ توڑ کراندرداخل ہوئے اورانھوں نے گھرکی تلاشی لی۔

خاتون نے بتایا کہ سال 2016 میں ان کے شوہر کی گاڑی حادثہ کا شکار ہوگئی تھی اوراس وقت ان کی گاڑی سے بعض کتابیں پولیس کو دستیاب ہوئی تھیں اوریہ کتابیں اسسٹنٹ پروفیسر کی ہی تحریرکردہ ہیں اوروہ بازار میں بھی دستیاب ہیں ۔ انھوں نے اس معاملہ میں عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
First published: Jan 18, 2020 08:20 PM IST