ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اڈوانی، جوشی اور اوما بھارتی سمیت دیگر ملزمان پھر کریں گے بابری مسجد انہدام کی سازش کے مقدمہ کا سامنا

بابری مسجد انہدام کو لے کر بھلے ہی سی بی آئی کی لکھنو بیچ نے لال کرشن اڈوانی، اوما بھارتی، مرلی منوہرجوشی سمیت بی جے پی پی، وشو ہندو پریشد کے 68 ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر سازش کے الزام سے بری کر دیا ہو، لیکن ابھی ان تمام لوگوں کی مشکلات ختم نہیں ہوئی ہیں کیونکہ مسلم پرسنل لا بورڈ پھر سے اپیل دائر کرنے جا رہا ہے۔

  • Share this:
اڈوانی، جوشی اور اوما بھارتی سمیت دیگر ملزمان پھر کریں گے بابری مسجد انہدام کی سازش کے مقدمہ کا سامنا
اڈوانی، جوشی اور اوما بھارتی سمیت دیگر ملزمان پھر کریں گے بابری مسجد انہدام کی سازش کے مقدمہ کا سامنا

نئی دہلی: بابری مسجد انہدام کو لے کر بھلے ہی سی بی آئی کی لکھنو بیچ نے لال کرشن اڈوانی، اوما بھارتی، مرلی منوہرجوشی سمیت بی جے پی پی، وشو ہندو پریشد کے 68 ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر سازش کے الزام سے بری کر دیا ہو، لیکن ابھی ان تمام لوگوں کی مشکلات ختم نہیں ہوئی ہیں کیونکہ مسلم پرسنل لا بورڈ پھر سے اپیل دائر کرنے جا رہا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے بابری مسجد انہدام کے گناہگاروں کو سزا دلانے کے لیے لیے جلد ہی کورٹ میں کارروائی کی جائے گی اور سی بی آئی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام طرح کی تیاری کرلی گئی ہے، قاسم رسول الیاس منڈی ہاؤس میں بابری انہدام کے گناہگاروں کو بری کئے جانے کےخلاف ہو رہے احتجاجی مارچ میں شامل ہونے آئے تھے۔


قاسم رسول الیاس نے کہا کہ اپیل کرنا سی بی ائی کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ وہی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی تھی، لکھنو بینچ کے فیصلے کے خلاف سی آئی کو عدالت جانا چاہئے، ہم نے آج صدر جمہوریہ ہند کو ایک میمورنڈم دیا ہے، دہلی اور پورے ملک سے میمورنڈم دیا گیا ہے کہ صدر جمہوریہ ہند سی بی آئی کو ہدایت دیں۔ بابری مسجد کے انہدام کے معاملے میں جو فیصلہ آیا ہے کہ ناکافی شواہد کی بنیاد پر تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا، اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ پورے ملک نے 6 دسمبر 1992 کو دیکھا کہ کیا ہوا تھا، اس طرح کے نعرے لگ رہے تھے ایک دھکا اور دو بابری مسجد توڑ دو۔

قاسم رسول الیاس نے کہا کہ بابری مسجد انہدام کو لے کر بنائے گئے لبراہن کمیشن نے صاف طور پر اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ یہ تمام لوگ ذمہ دار ہیں۔ سنگھ پریوار کے لوگ، بی جے پی اور وہ ہندو پریشد بابری مسجد کے انہدام کے لئے ذمہ دار ہیں، اس کے باوجود ان سب لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، اس سے بڑی نا انصافی کیا ہو سکتی ہے۔ قاسم رسول الیاس نے کہا کہ اپیل کے ٹائم میں ہم اپنا کیس عدالت میں داخل کردیں گے۔ غور طلب ہے کہ سی بی آئی کی اسپیشل عدالت کی لکھنؤ بینچ نے 30 ستمبرکو اپنے فیصلے میں تمام لوگوں کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کردیا تھا۔ عدالت نے کہا  تھا کہ اس معاملے میں سازش کے ناکافی شواہد  ہیں، شرپسندوں نے اچانک حملہ کرکے بابری مسجد کو منہدم کیا۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 06, 2020 04:21 PM IST