உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    BJP Leader Nupur Sharma News:مشتعل خلیجی ممالک سعودی عرب اور UAE کو کیسے منائے گا ہندوستان؟کیا ہے ماہرین کی رائے

    سعودی عرب اور یو اے ای کو کیسے منائے گا ہندوستان؟

    سعودی عرب اور یو اے ای کو کیسے منائے گا ہندوستان؟

    BJP Leader Nupur Sharma News: سعودی عرب، اسرائیل اور امریکا کا اتحاد چین اور پاکستان کی آنکھوں کو چبھتا رہا ہے۔ ایسے میں ہندوستان کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بہت زور لگا کر آگے بڑھنا پڑے گا۔ یہ خلیجی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے لیے بہتر ہوگا۔

    • Share this:
      BJP Leader Nupur Sharma News: خلیجی ممالک تک بی جے پی ترجمان نوپور شرما کا بیان پہنچ گیا ہے۔ نوپور کے متنازعہ بیان پر خلیجی ممالک نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ کئی خلیجی ممالک نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستان کو یو اے ای اور سعودی عرب کی فکر ہے، احتجاج کرنے والوں میں سعودی اور یو اے ای کا نام سامنے آیا ہے؟ ہندوستان کے سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ ایسے میں ہندوستان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ اپنے تعلقات کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس معاملے پر ہندوستان کے سامنے سفارتی چیلنج کیا ہے۔ کیا ہندوستان سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے میں کامیاب ہوگا؟ ان تمام معاملات میں ماہرین کی کیا رائے ہے؟

      پروفیسر ہرش وی پنت خارجہ امور کے ماہر نے کہا کہ یہ ہندوستانی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ ہندوستان کی تشویش خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے حوالے سے بڑی ہوگی۔ ہندوستان کے خلیج کے ان دونوں ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ اس معاملے کی تپش اب اس رشتے تک پہنچ رہی ہے۔ پروفیسر پنت نے کہا کہ خاص بات یہ ہے کہ دونوں ممالک نے بہت مشکل وقت میں ہندوستان کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان سمیت دنیا کے تمام اسلامی ممالک نے آرٹیکل 370 کے حوالے سے ہندوستان کی مخالفت کی تھی تو اس وقت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہندوستان کے ساتھ کھڑے تھے۔ ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ہندوستان اس سفارتی چیلنج کو کس طرح لیتا ہے۔

      پروفیسر پنت نے کہا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے اچھے تعلقات ہیں۔ ہندوستان کے کئی ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات ہیں۔ زیادہ تر ہندوستانی خلیجی ممالک میں رہتے ہیں، جو ہندوستانی معیشت کے لیے بہت خاص ہے۔ ایسے میں خلیجی ممالک کی ناراضگی ہندوستان کے لیے بہت اہم ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک کے کئی ممالک مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ یہی نہیں کئی خلیجی ممالک پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں اس کو لے کر پاکستان کو کافی ملال رہتا ہے۔

      سعودی عرب، اسرائیل اور امریکا کا اتحاد چین اور پاکستان کی آنکھوں کو چبھتا رہا ہے۔ ایسے میں ہندوستان کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بہت زور لگا کر آگے بڑھنا پڑے گا۔ یہ خلیجی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے لیے بہتر ہوگا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Al Qaeda Threat:دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے دی ہندوستان میں خودکش حملے کی دھمکی

      پروفیسر پنت کا کہنا ہے کہ سوال یہ نہیں ہے کہ آیا اس سے ہندوستان اور عرب ممالک کے تعلقات متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے جس طرح سے اس بیان پر دنیا کے سامنے اپنا موقف مضبوطی سے پیش کیا ہے۔ وہ تعریف اور خوش آئند ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Prophet Mohammad Remarks Row:اسدالدین اویسی نے کہا’کیااب نوپورشرما کے گھرپرچلے گا بلڈوزر؟‘

      خاص طور پر ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سامنے اپنا موقف بہت مضبوط اور منطقی طور پر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے او آئی سی کے سربراہ کے غیر ضروری اور تنگ نظر بیان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: