ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں کوروناسے1لاکھ سےزیادہ اموات کادعویٰ،کانگریس نےحکومت پرلگایایہ سنگین الزام

کورونا سے ہونے والی اموات کے اعداد وشمار کو لیکر ابھی تک ڈھکے چھپے لفظوں میں لوگ بات کرتے تھے مگر اب مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی ٰکمل ناتھ نے ریاست میں کوروناسے ایک لاکھ سے زیادہ موت ہونے کا دعوی کرکے نئی بحث شروع کردی ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں کوروناسے1لاکھ سےزیادہ اموات کادعویٰ،کانگریس نےحکومت پرلگایایہ سنگین الزام
علامتی تصویر

مدھیہ پردیش میں کورونا کی وبائی بیماری سے ہونے والی اموات پر سیاست تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ کورونا سے ہونے والی اموات کے اعداد وشمار کو لیکر ابھی تک ڈھکے چھپے لفظوں میں لوگ بات کرتے تھے مگر اب مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی ٰکمل ناتھ نے ریاست میں کوروناسے ایک لاکھ سے زیادہ موت ہونے کا دعوی کرکے نئی بحث شروع کردی ہے ۔ وہیں مدھیہ پردیش حکومت نےسابق سی ایم کمل ناتھ کے دعوی کو گمراہ کن بتاتے ہوئے گورنر سے کمل ناتھ کے خلاف دفعہ ایک سو اٹھاسی کے تحت کاوائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مدھیہ پردیش میں کوروناسے ہونے والی اموات کو لیکر ایم پی پی سی سی چیف و سابق سی ایم کمل ناتھ کہتے ہیں کہ کورونا سے ہونے والی اموات کو لیکر سرکاری اعدادوشمار بوگس ہیں ۔ یہ دھوکہ ہیں اور فرا ڈ ہیں ۔مجھے ان اعداد شمار سے مطلب ہے کہ کتنی لاشیں قبرستان اور شمشان گھاٹ پہنچیں۔شمشان گھاٹ اور قبرستان میں جن کی آخری رسومات ادا کی جاتی ہے ان کے رجسٹر دیکھ کر شمار کیا جا سکتا ہے ۔مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ


شمشان اور قبرستان میں جن لوگوں کی آخری رسومات ادا ہوتی ہے ان کے اسی فیصد اعدادوشمارمیں نے گن لئے ہیں ۔ جو موتیں ہوئی ہیں ان میں سے اسی فیصد کووڈ کے سبب ہوئی ہیں ۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ اسی فیصد نہیں ستر فیصد موتوں کی آخری رسومات ہوئی ہیں تو ہم ستر مان لیتے ہیں پھر ان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوتی ہے۔میں تو سرکار سے صاف طور پر پوچھنا چاہتے ہوں کہ آپ نے کووڈ کو لیکر جو بناوٹی پیمانہ بنایا ہے وہ گمراہ کرنےکے لئے ہے۔ آپ صرف ملک کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں ۔آپ سب جگہ قبرستان اور شمشان گھاٹ میں جن لوگوں کی کووڈ پروٹوکال کے تحت آخری رسومات ادا کی گئی ہیں ان کے اعداد وشمار پیش کر دیجیے حقیقت سامنے آجائے گی ۔جن لوگوں کی کووڈ سے موت ہوتی ہے انکی ڈیتھ سرٹیفکیٹ نگر نگم،،نگر پالیکا کا نہیں ہے ،پنچایت کا نہیں ہے،ہاسپیٹل کا نہیں ہے۔ اب جو شخص بھی اپنے لوگوں کی لاش لے کر جاتا ہے اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا ہے ۔ وہ مشکل حالات میں سرٹیفکیٹ تلاش کرنے نہیں جائے گا۔حقیقت چھپانے سے کورونا ختم ہونے والانہیں ہے ۔اب ان سے جو سوال پوچھتا ہے تو اسے دیش دروھی قرار دیکر آگے بڑھ جاتے ہیں ۔


وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے کمل ناتھ کے بیان پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس وہیں سوال اٹھاتی ہے جہاں پر ملک کا وقار مجروح ہوتا ہے ۔کمل ناتھ نے بغیرکس ثبوت کے کہہ دیا کہ مدھیہ پردیش میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ایک آئینی عہدے پر بیٹھا شخص اس طرح کا جھوٹ پر جھوٹ بولے تو نہ صرف تکلیف دہ ہے بلکہ شرمناک ہے ۔اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کریں ۔ اگر کمل ناتھ ثبوت پیش کردیتے ہیں تو استعفی دونگا اگر ثبوت فراہم نہیں کر سکتے ہیں تو استعفی دیدیجئے۔ انہیں درد اس بات کا ہے کہ جہاں جہاں پر انکی حکومتیں ہیں وہاں انہوں نے شیوراج جی کی طرح عوامی فلاح کے کام کیوں نہیں کئے ۔ اپنی ناکامی چھپانے کے لئے یہ گمراہ کن باتیں پھیلا کر سماج میں حوف پیداکر رہے ہیں ۔ میں مدھیہ پردیش کے گورنر سے مانگ کرتا ہوں کہ ان کے خلاف دفعہ ایک سو اٹھاسی کے تحت معاملہ درج کر کے کاروائی کی جائے ۔


سیاسی سطح پر ایم پی میں کورونا سے ہونے والی اموات کو لیکر چاہے جو بھی باتیں کی جائیں لیکن حکومت کے ذریعہ ہیلتھ بلیٹن میں کورونا سے ہونے والی اموات کے جو اعدادو شمار پیش کئےجاتے ہیں ریاست کے شمشان و قبرستان میں کووڈ پروٹوکال کے تحت جن لوگوں کی آخری رسومات اداکی جاتی ہے ان کے اعدادو شمار میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: May 21, 2021 11:25 PM IST