پی چدمبرم کونہیں ملی راحت، خصوصی عدالت نے14 دنوں کےلئےعدالتی حراست میں بھیج دیا

کانگریس کےسینئرلیڈرپی چدمبرم کوبدھ کو بھی راحت نہیں ملی اورخصوصی عدالت نےانہیں 14 دن یعنی 13 نومبرتک کے لئےعدالتی حراست میں بھیج دیا۔

Oct 30, 2019 08:56 PM IST | Updated on: Oct 30, 2019 08:56 PM IST
پی چدمبرم کونہیں ملی راحت، خصوصی عدالت نے14 دنوں کےلئےعدالتی حراست میں بھیج دیا

کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم کونہیں ملی راحت

نئی دہلی: آئی این ایكس میڈیا معاملے میں سابق مرکزی وزیرخزانہ اور کانگریس کے سینئر لیڈرپی چدمبرم کو بدھ کو بھی راحت نہیں ملی اورخصوصی عدالت نے انہیں 14 دن یعنی 13 نومبرتک کےلئےعدالتی حراست میں بھیج دیا۔ خصوصی عدالت کے جج اجےکماركهارنے  اگرچہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) کی پوچھ گچھ کےلئےایک دن کی حراست کی درخواست قبول نہیں کی۔ پی  چدمبرم اس وقت تہاڑجیل میں بند ہیں۔ عدالت نے پی چدمبرم کو تہاڑجیل میں گھرکےبنےکھانےکےلئےمنظوری دے دی۔

جج اجےکماركهارنےتہاڑ جیل حکام کوکانگریسی لیڈرکوجیل میں دوائیاں، انگریزی اسٹائل کےٹوائلٹ، حفاظت اورالگ سیل میں رکھنے کا بھی حکم دیا۔ آئی این ایكس میڈیا معاملے میں  پی چدمبرم کو 21 اگست کی رات کومرکزی تفتیشی بیورو(سی بی آئی) نے گرفتارکیا تھا۔ انہیں پانچ ستمبرکوعدالت نے سی بی آئی کی حراست میں 14 دن  کے لئےتہاڑجیل بھیجا تھا۔ خصوصی عدالت نے15 اکتوبرکوای ڈی کوجیل میں پی چدمبرم سے پوچھ گچھ کی اجازت دی تھی اوریہ بھی کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پرانہیں حراست میں بھی لیا جا سکتا ہے۔

ای ڈی کی جانب سے آج سماعت کے دوران عدالت سے اپیل کی گئی کہ پی چدمبرم سے زیادہ وقت تک پوچھ گچھ نہیں کی جا سکی ہے۔ لہٰذا ان سےکچھ سوالات کے جوابات جاننے ہیں اور ان کی حراست کی مدت بڑھائی جائے۔ سماعت کے دوران کورٹ روم میں ایک خاتون وکیل نےسابق وزیرخزانہ کی تصویرلینےکی کوشش کی۔ اس پرجج ناراض ہوئے۔ انہوں نے خاتون وکیل کوطلب کیا اوران سے ایسے تصویرلینے کی وجہ پوچھی۔ اس پر خاتون وکیل نے اپنی غلطی تسلیم کی اورجج سے معافی مانگی۔ اس کے بعد جج نے خاتون وکیل سے موبائل سے چدمبرم کی تصویرڈیلیٹ کرنے کوکہا، جب خاتون وکیل نے موبائل سے چدمبرکی تصویر ڈیلیٹ کردی توجج نے انہیں چھوڑدیا۔

فیصلےکےفوراً بعد چدمبرم نے کیا ٹوئٹ

اس فیصلے کے فوراً بعد پی چدمبرم نےایک ٹوئٹ بھی کیا، جس میں چدمبرم نے جموں وکشمیرکے ضمن میں حکومت پر تنقید کی۔ اس ٹوئٹ میں چدمبرم نے پھرسے واضح کیا ہے کہ انہوں نےاپنی فیملی سے یہ ٹوئٹ کرنےکوکہا تھا۔ پی چدمبرم نے اس ٹوئٹ میں لکھا- 'کون جانتا ہے؟ یوروپین یونین کےاراکین پارلیمنٹ کوپارلیمنٹ کے آئندہ سیشن میں حصہ لینےاورحکومت کی حمایت میں بولنے کے لئے مدعو کیا جاسکتا ہے'۔

Loading...