کشمیر میں دہشت گردی پھیلانے کے لئے بڑی سازش رچ رہی ہے پاکستانی فوج، بنایا یہ منصوبہ

خفیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 200 سے بھی زیادہ افغانی دہشت گرد جو کہ طالبان کے ساتھ مل کر لڑ چکے ہیں، ہندوستان پر حملے کے لئے لائن آف کنٹرول کے قریب لانچ پیڈ پر موجود ہیں۔

Aug 22, 2019 11:04 PM IST | Updated on: Aug 22, 2019 11:21 PM IST
کشمیر میں دہشت گردی پھیلانے کے لئے بڑی سازش رچ رہی ہے پاکستانی فوج، بنایا یہ منصوبہ

کشمیر میں دہشت گردانہ حملہ کی فراق میں ہے پاکستانی فوج

جموں وکشمیر میں نوے کی دہائی میں دہشت گردی کا جس طرح کا ماحول تھا وہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔ کیسے پاکستان غیر ملکی دہشت گردوں کو ہندوستان بھیج کر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دیتا تھا۔ حالانکہ ہندوستانی فوج نے دہشت گردانہ دراندازی پر کافی حد تک لگام لگا رکھی تھی۔ لیکن اب آرٹیکل 370 ہٹنے کے بعد پاکستان ایک بار پھر جموں وکشمیر میں نوے کی دہائی جیسا ماحول بنانے کی سازش رچ رہا ہے۔

دراصل، نوے کی دہائی میں غیر ملکی دہشت گردوں کی بھرمار تھی کشمیر میں۔ جس میں پاکستان، افغانستان اور دیگر کئی ملکوں سے بھی دہشت گردوں کو جموں وکشمیر میں بھیجتا تھا۔ لیکن فوج کی کارروائی نے سب کی کمر توڑ دی ہے اور غیر ملکی دہشت گرد نہ کے برابر ہو گئے۔ لیکن آرٹیکل 370 کے جموں وکشمیر سے ہٹنے کے بعد پاکستانی فوج بوکھلا گئی ہے۔

Loading...

خفیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 200 سے بھی زیادہ افغانی دہشت گرد جو کہ طالبان کے ساتھ مل کر لڑ چکے ہیں، ہندوستان پر حملے کے لئے لائن آف کنٹرول کے قریب لانچ پیڈ پر موجود ہیں۔ یہی نہیں، ایک رپورٹ کے مطابق، کچھ افغانی دہشت گردوں کی ہندوستان میں دراندازی کی خبر بھی ہے جو دہلی سمیت دیگر بڑے شہروں میں دہشت گردانہ واقعات انجام دے کر کے ماحول بگاڑ سکتے ہیں۔

 آرٹیکل 370 کے جموں وکشمیر سے ہٹنے کے بعد پاکستانی فوج بوکھلا گئی ہے۔ آرٹیکل 370 کے جموں وکشمیر سے ہٹنے کے بعد پاکستانی فوج بوکھلا گئی ہے۔

خفیہ رپورٹ کے مطابق، باقاعدہ 19 اگست کو بہاولپور میں دہشت گرد تنظیموں کی ایک بڑی میٹنگ بلائی گئی تھی جس کی صدارت مسعود اظہر کا چھوٹا بھائی مولانا رؤف اظہر کر رہا تھا۔ وہ جیش کے آرمڈ ونگ کا کمانڈر ہے۔

رؤف افغانستان کی لڑائی میں بھی سرگرم رہا ہے۔ ایسے میں رؤف اس کوشش میں لگا ہے کہ زیادہ سے زیادہ افغانی دہشت گردوں کو ہندوستان میں بھیجا جا سکے۔ اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ افغانی دہشت گرد باقی دہشت گرد تنظیموں سے زیادہ بہتر تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو اس میٹنگ میں دراندازی اور دہشت گردانہ حملوں کو لے کر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس میٹنگ کے نتیجہ کو آئی ایس آئی کے پاس منظوری کے لئے بھیجا گیا ہے۔

خفیہ اطلاعات میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جموں وکشمیر میں موجود جیش کے دہشت گرد ہتھیار، گولہ بارود اور دہشت گردانہ حملوں کے احکام اور پوری بریفنگ کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہی نہیں انٹلی جنس ان پٹ یہ بھی انکشاف کر رہے ہیں کہ 13 اگست کو پاکستانی فوج کے بڑے آفیسر نے پونچھ سیکٹر کے دوسری طرف راولکوٹ میں دہشت گرد تنظیموں کے کمانڈروں سے بھی ملاقات کی تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ جس آفیسر سے یہ ملاقات ہوئی تھی وہ آئی ایس آئی سربراہ ہو سکتا ہے۔ دہشت گردوں کے نشانے پر دہرادون میں انڈین ملٹری اکادمی بھی ہے۔ مطلب دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ میں آئی ایم اے بھی ہے۔

سندیپ بول کی رپورٹ

Loading...