உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دو سال میں PoK بن جائے گا ہندوستان کا حصہ، آلو-پیاز سستے کرنے کے لئے PM نہیں بنے ہیں مودی: مرکزی وزیر

    وزیراعظم نریندر مودی (فائل فوٹو)

    وزیراعظم نریندر مودی (فائل فوٹو)

    پاٹل نے کہا کہ لوگ 700 روپے کا مٹن، 500-600 روپے کا پزا خرید سکتے ہیں ’لیکن 10 روپے کا پیاز اور 40 روپے کا ٹماٹر ہمارے لئے مہنگا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’قیمتوں میں اضافہ کا کوئی حامی نہیں ہوگا لیکن نریندر مودی آلو۔پیاز کی قیمتیں کم کرنے کے لئے وزیراعظم نہیں بنے ہیں۔ اگر آپ ان چیزوں کی قیمتیں بڑھنے کے پیچھے کی وجہ سمجھوگے تو وزیراعظم کو مورد الزام نہیں ٹھہراوگے۔‘

    • Share this:
      تھانے(مہاراشٹر): مرکزی وزیر کپل پاٹل (Kapil Patil) نے کہا کہ ممکنہ 2024 تک پاکستان کے قبضے والا کشمیر (PoK) ہندوستان کا حصہ بن جائے گا اور ملک کے لئے مختلف ٹھوس قدم اٹھانے کے لئے وزیراعظم نریندر مودی (Narendra Modi) اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ (Amit Shah) کی قیادت کی تعریف کی۔

      ہفتہ کی رات مہاراشٹر کے تھانے ضلع کے کلیان قصبے میں منعقدہ ایک پروگرام میں پنچایتی راج امور کے وزیر مملکت پاٹل نے یہ بھی کہا کہ مودی آلو اور پیاز کی قیمت کم کرنے کے لیے وزیر اعظم نہیں بنے ہیں۔ انہوں نے یہ کہا کہ لوگ پیاز جیسی چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کی شکایت کرتے ہیں لیکن پزا اور مٹن (گوشت) خریدنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ تھانے ضلع کی بھیونڈی سیٹ کے ایم پی پاٹل نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی حمایت نہیں کرے گا۔

      ’2024 تک پی او کے بن جائے گا ہندوستان کا حصہ‘
      انہوں نے کہا، ’صرف وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ ہی ملک کے لیے کچھ کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی کو ملک کی قیادت کرتے رہنا چاہئے کیونکہ انہوں نے سی اے اے (شہریت ترمیم قانون )، آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بیشتر دفعات کو ختم کرنے کا کام کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ شاید 2024 تک پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) ہندوستان کا حصہ بن جائے گا۔‘

      پاٹل نے کہا کہ لوگ 700 روپے کا مٹن، 500-600 روپے کا پزا خرید سکتے ہیں ’لیکن 10 روپے کا پیاز اور 40 روپے کا ٹماٹر ہمارے لئے مہنگا ہے۔‘

      انہوں نے کہا کہ ’قیمتوں میں اضافہ کا کوئی حامی نہیں ہوگا لیکن نریندر مودی آلو۔پیاز کی قیمتیں کم کرنے کے لئے وزیراعظم نہیں بنے ہیں۔ اگر آپ ان چیزوں کی قیمتیں بڑھنے کے پیچھے کی وجہ سمجھوگے تو وزیراعظم کو مورد الزام نہیں ٹھہراوگے۔‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: