உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امریکہ میں ہوئی عمران حکومت کی کرکری، ہندوستان پر بھڑکا پاکستان

    ہندوستان پر اپنے سفیر کو لے کر بھڑک گیا پاکستان۔

    ہندوستان پر اپنے سفیر کو لے کر بھڑک گیا پاکستان۔

    امریکی رکن پارلیمنٹ نے خط میں یہ بھی لکھا کہ مسعود خان نے جہادی برہان وانی سمیت حزب المجاہدین کے دہشت گردوں کی تعریف کی ہے اور حزب المجاہدین کے خلاف پابندیوں کے لئے 2017 میں امریکہ کے خلاف بیان بھی دیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:امریکہ میں پاکستان کے نئے سفیر مسعود خان کی تقرری میں تاخیر پر پاکستان اب اپنا غصہ ہندوستان پر نکال رہا ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ ہندوستان اس کی شبیہ کو خراب کر رہا ہے۔ ہندوستانی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے منگل کو کہا کہ یہ تمام رپورٹس بے بنیاد ہیں اور مسعود خان کی تقرری کے حوالے سے امریکا میں کارروائی جاری ہے۔

      کیا ہے پورا معاملہ؟
      پاکستان کی عمران خان حکومت نے گزشتہ سال نومبر میں حزب کے حامی مسعود خان کو امریکا میں پاکستان کا سفیر نامزد کیا تھا۔ لیکن امریکہ انہیں سفیر کے طور پر قبول کرنے میں کافی وقت لگا رہا ہے۔
      اس معاملے کو لے کر اب تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ امریکی رکن پارلیمنٹ اسکاٹ پیری نے صدر جوبائیڈن کو ایک خط لکھ کر کہا کہ وہ مسعود خان کو سفیر کے طو رپر تسلیم نہ کریں۔

      خط میں امریکی قانون ساز نے لکھا، ’میں اس حقیقت سے متاثر ہوں کہ محکمہ خارجہ نے مسعود خان کی پاکستان سے نئے سفیر کے طور پر منظوری روک دی ہے۔ میرے خیال میں صرف رکنا کافی نہیں ہے۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ مسعود خان کی تقرری کو مسترد کر دیں۔ اس جہادی سوچ رکھنے والے شخص کو امریکہ میں سفیر بنانے کی کوشش کو مسترد کریں۔‘

      امریکی رکن پارلیمنٹ نے خط میں یہ بھی لکھا کہ مسعود خان نے جہادی برہان وانی سمیت حزب المجاہدین کے دہشت گردوں کی تعریف کی ہے اور حزب المجاہدین کے خلاف پابندیوں کے لئے 2017 میں امریکہ کے خلاف بیان بھی دیا ہے۔

      کون ہے مسعود خان؟
      مسعود خان اس سے قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر تھے۔ اس دوران انہوں نے تنازعہ کشمیر پر پاکستان کا مقدمہ آگے بڑھانے کا کام کیا۔ وہ بیجنگ، دی ہیگ اور واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی مشنز میں مختلف سفارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: