உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Agra News:تاج محل میں ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانا پڑا مہنگا، بھیڑ نے کردی پٹائی

     مغل بادشاہ شاہ جہاں کا تین روزہ 367 واں عرس 27 فروری سے منایا جا رہا ہے اور اس دوران تاج محل کے مرکزی گنبد کے نیچے تہہ خانے میں واقع ممتاز اور شاہ جہاں کی قبروں کو کھول دیا گیا۔ لوگ عرس کے دوران سیاحوں کا داخلہ مفت تھا۔

    مغل بادشاہ شاہ جہاں کا تین روزہ 367 واں عرس 27 فروری سے منایا جا رہا ہے اور اس دوران تاج محل کے مرکزی گنبد کے نیچے تہہ خانے میں واقع ممتاز اور شاہ جہاں کی قبروں کو کھول دیا گیا۔ لوگ عرس کے دوران سیاحوں کا داخلہ مفت تھا۔

    مغل بادشاہ شاہ جہاں کا تین روزہ 367 واں عرس 27 فروری سے منایا جا رہا ہے اور اس دوران تاج محل کے مرکزی گنبد کے نیچے تہہ خانے میں واقع ممتاز اور شاہ جہاں کی قبروں کو کھول دیا گیا۔ لوگ عرس کے دوران سیاحوں کا داخلہ مفت تھا۔

    • Share this:
      آگرہ:مغل بادشاہ شاہ جہاں کے تین روزہ 367ویں عرس کے تیسرے روز اس وقت افراتفری کا ماحول بن گیا جب ایک شخص نے پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔ منگل کو شاہ جہاں کے عرس کے موقع پر تاج محل احاطے میں ایک شخص نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے جس پر وہاں موجود ہجوم نے ملزم کو پکڑ لیا اور اس کی خوب پٹائی کی۔ افراتفری کا ماحول دیکھ کر سی آئی ایس ایف کے سیکورٹی اہلکار وہاں پہنچ گئے اور بھیڑ نے اسے سی آئی ایس ایف کے حوالے کر دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں نے بھی موقع پر اس کی پٹائی بھی کی۔

      میڈیا رپورٹ کے مطابق واقعہ منگل کی شام کا ہے، جب عرس کے موقع پر تاج محل میں مفت داخلے کی وجہ سے لوگوں کا ہجوم تھا اور تاج محل کے مشرقی اور مغربی دروازوں پر لمبی قطاریں لگ گئیں۔ تاج محل کے مرکزی مزار پر بھی سینکڑوں لوگوں کا ہجوم تھا۔ پھر ہجوم میں سے ایک شخص نے مرکزی قبر پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ یہ سنتے ہی ہجوم نے نعرے لگانے والے شخص کو پکڑ لیا اور اس کی پٹائی کی۔ اس کے بعد سی آئی ایس ایف نے ملزم نوجوان کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

      بتا دیں کہ مغل بادشاہ شاہ جہاں کا تین روزہ 367 واں عرس 27 فروری سے منایا جا رہا ہے اور اس دوران تاج محل کے مرکزی گنبد کے نیچے تہہ خانے میں واقع ممتاز اور شاہ جہاں کی قبروں کو کھول دیا گیا۔ لوگ عرس کے دوران سیاحوں کا داخلہ مفت تھا۔ اس مرتبہ شاہ جہاں کا عرس 27 فروری، 28 فروری اور یکم مارچ کو تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: