உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بڑی خبر: دہلی سے پاکستانی مشتبہ دہشت گرد گرفتار، اے کے 47- سمیت کئی ہتھیار برآمد

    دہلی سے پاکستانی مشتبہ دہشت گرد گرفتار، اے کے 47- سمیت کئی ہتھیار برآمد

    دہلی سے پاکستانی مشتبہ دہشت گرد گرفتار، اے کے 47- سمیت کئی ہتھیار برآمد

    Pakistani terrorist arrested from Delhi: دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے ہاتھ ایک بڑی کامیابی لگی ہے۔ پولیس کی اسپیشل سیل ٹیم نے دہلی سے پاکستانی مشتبہ دہشت گرد (Pakistani Terrorist) کو گرفتار کیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے ہاتھ ایک بڑی کامیابی لگی ہے۔ پولیس کی اسپیشل سیل ٹیم نے دہلی سے پاکستانی مشتبہ دہشت گرد (Pakistani Terrorist) کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار دہشت گرد پاکستانی نژاد ہے۔ آئی ایس آئی (ISI) نے دہلی سمیت ہندوستان میں حملے کے لئے ٹرینڈ کیا تھا۔ پولیس کو اس کے قبضے سے اے کے -47 ہتھیار (AK-47) ، ہینڈ گرینیڈ برآمد ہوئے ہیں۔ فی الحال پولیس پکڑے گئے دہشت گرد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ کچھ دن پہلے سیکورٹی ایجنسیوں نے الرٹ بھی جاری کیا تھا کہ آئی ایس آئی دہلی میں دھماکہ کرسکتی ہے۔

      اس دہشت گرد کو کل مشرقی دہلی کے لکشمی نگر کے رمیش پارک سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ فرضی شناختی کارڈ کی بنیاد پر دہلی میں علی محمود نوری کے نام سے مقیم تھا۔ فرضی دستاویز کی بنیاد پر اس نے شاستری پارک کے ایک پتے پر اس نے ہندوستانی شناختی کارڈ بنوایا تھا، جس میں اس کا نام علی احمد نوری ہے۔

      فرضی پاسپورٹ برآمد

      اس کی نشاندہی پر کالندی کنج کے جمنا گھاٹ سے ایک AK-47، 60 کارتوس، ایک ہینڈ گرینیڈ، 2 پستول اور اس کے 50 کارتوس برآمد ہوئے ہیں۔ ترکمان گیٹ سے اس کا ایک فرضی پاسپورٹ برآمد ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ دہلی میں تیوہاروں کے موسم میں بڑا حملہ کرنے کی فراق میں تھا۔ فی الحال مشتبہ دہشت گرد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

      دہلی پولیس اسپیشل سیل سے کر رہی ہے پوچھ گچھ

      دہلی پولیس اسپیشل سیل ذرائع کے مطابق، دہشت گرد دہلی-6 کے علاقے میں بھی رہ چکا تھا۔ اسپیشل سیل کے افسر اس سے دہلی -6 کے علاقے کی پوری تفصیلات جمع کر رہے ہیں تاکہ دہشت گرد اشرف کتنی بار دہلی-6 کی طرف گیا، کیا ابھی حال ہی میں اس کی موومنٹ وہاں پر تھی اور وہاں پر اور کس کے رابطے میں وہ تھا، اس کی تفصیلات جمع کی جارہی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: