ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

چین سے کشیدگی کے درمیان 28 اکتوبر کو لداخ جائے گی پارلیمانی کمیٹی ، یہ ہے اصل وجہ

Parliamentary Committee Ladkah Visit : لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے پارلیمانی کمیٹی کو دورہ کرنے کی اجازت دیدی ہے ۔ دراصل ادھیر رنجن چودھری نے گزشتہ ماہ لوک سبھا اسپیکر کو ایک خط لکھ کر لداخ علاقہ کا دورہ کرنے ، وہاں تعینات جوانوں کے ساتھ بات چیت کرنے اور ان کے کام کاج کے حالات اور ان کی ضروریات کو سمجھنے کیلئے دورہ کی اجازت مانگی تھی ۔

  • Share this:
چین سے کشیدگی کے درمیان 28 اکتوبر کو لداخ جائے گی پارلیمانی کمیٹی ، یہ ہے اصل وجہ
چین سے کشیدگی کے درمیان 28 اکتوبر کو لداخ جائے گی پارلیمانی کمیٹی ، یہ ہے اصل وجہ ۔ تصویر : اے این آئی ۔

چین کے ساتھ کشیدگی کے درمیان ایک پارلیمانی کمیٹی لداخ کے دو روزہ دورہ پر جائے گی ۔ اس دوران کمیٹی سی اے جی رپورٹ کے تناظر میں بھی حالات کا جائزہ لے گی ، جس میں ہائی الٹی ٹیوٹ پر کام کررہے فوجیوں کے موسمی کپڑے اور دیگر آلات کی کمی کا تذکرہ کیا گیا تھا ۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی جوانوں کی رہائش گاہ ، راشن اور اگلی چوکیوں کا بھی جائزہ لے گی ۔ ہندوستان ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سے متعلق افسران نے منگل کو یہ جانکاری دی ہے ۔ افسران نے کہا کہ کانگریس رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری کی کی قیادت میں پبلک اکاونٹ کمیٹی ( پی اے سی ) کے اراکین 28 اور 29 اکتوبر کو لیہہ کا دورہ کرسکتے ہیں ۔


لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے پارلیمانی کمیٹی کو دورہ کرنے کی اجازت دیدی ہے ۔ دراصل ادھیر رنجن چودھری نے گزشتہ ماہ لوک سبھا اسپیکر کو ایک خط لکھ کر لداخ علاقہ کا دورہ کرنے ، وہاں تعینات جوانوں کے ساتھ بات چیت کرنے اور ان کے کام کاج کے حالات اور ان کی ضروریات کو سمجھنے کیلئے دورہ کی اجازت مانگی تھی ۔ یہ کمیٹی سی اے جی کی اس پورٹ کا بھی مطالعہ کررہی ہے ، جس میں ہائی الٹی ٹیوٹ پر کام کررہے جوانوں کے موسمی کپڑے ، آلات اور دیگر ضروریات کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔


اس سے متعلق افسران نے کہا کہ پی اے سی نے چھ ستمبر کو ایک میٹنگ کے دوران سی ڈی ایس جنرل بپن راوت کے ساتھ جوانوں کے راشن اور کپڑوں سے متعلق کئی معاملات پر گفتگو کی تھی ۔ اس میٹنگ کے دوران پی اے سی نے لداخ دورہ کی بات کہی تھی ، جس کے بعد انہوں نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھا تھا ۔ پی اے سی کے اراکین اپنے دورہ کو حتمی شکل دینے کیلئے 23 اکتوبر کو اوم برلا سے پھر ملاقات کرسکتے ہیں ۔ بتادیں کہ فروری میں پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کیگ نے سیاچن اور لداخ جیسے ہائی الٹی ٹیوٹ والے علاقوں میں تعینات جوانون کے موسمی کپڑے ، آلات اور راشن کی کمی کی بات کہی تھی ۔


ہندوستان نے چین سے جلد فوجی پیچھے ہٹانے کیلئے کہا

دریں مشرقی لداخ میں تعطل کے حل کے لئے ہندستان نے چین کے ساتھ 7ویں دور کی فوجی سطح کی بات چیت میں بیجنگ سے تنازعہ کے سبھی نکات سے چینی افواج کی مکمل واپسی کرنے کو کہا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مشرقی لداخ میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت پیر کے روز دوپہر تقریبا 12 بجے لائن آف ایکچول کنٹرول پر چشول علاقہ میں ہندستانی علاقے میں ہوئی اور رات ساڑھے آٹھ بجے کے بعد بھی جاری رہی۔ سرحدی تنازعہ چھٹے مہینے میں داخل ہو چکا ہے اور تنازعہکے جلد حل ہونے کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں کیونکہ ہندستان اور چین نے بیحد اونچائی والے علاقوں میں تقریبا ایک لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں جو طویل تعطل میں ڈٹے رہنے کی تیاری ہے۔

بات چیت کے بارے میں کوئی آفیشیل بیان نہیں آیا ہے لیکن ذرائع نے کہا کہ ایجنڈا تنازعہ کے سبھی نکات سے فوجیوں کی واپسی کے لئے ایک خاکہ کو حتمی شکل دینا تھا۔ ہندستانی نمائندہ وفد کی قیادت لیہہ واقع 14 ویں کور کے کمانڈر لفٹننٹ جنرل ہریندر سنگھ اور وزارت خارجہ میں مشرقی ایشیا معاملوں کے جوائنٹ سکریٹری نوین شری واستو کر رہے ہیں۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ بات چیت میں چینی وزارت خارجہ کا ایک افسر بھی چینی نمائندہ وفد کا حصہ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بات چیت میں ہندستان نے زور دے کر کہا کہ چین کو تنازعہ کے سبھی نکات سے اپنے فوجیوں کو جلد اور پوری طرح واپس بلانا چاہئے اور مشرقی لداخ میں سبھی علاقوں میں اپریل سے پہلے کی صورت حال بحال ہونی چاہئے۔ تعطل پانچ مئی کو شروع ہوا تھا۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 13, 2020 06:48 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading