آج سے شروع ہو گا پارلیمنٹ کا اجلاس، حکومت کو گھیرنے کے لئے متحد ہوا اپوزیشن

نئی دہلی۔ اتراکھنڈ میں صدر راج، امریکہ کو ملک کے فوجی ٹھکانوں کا استعمال کرنے کی اجازت دینے کے معاہدہ کا حکومت کا منصوبہ اور وجے مالیہ معاملہ پر اپوزیشن کے سخت تیور کے مدنظر پارلیمنٹ کے آج سے شروع ہونے والے اجلاس کا موسم کی طرح گرم رہنا یقینی ہے۔

Apr 24, 2016 07:08 PM IST | Updated on: Apr 25, 2016 08:16 AM IST
آج سے شروع ہو گا پارلیمنٹ کا اجلاس، حکومت کو گھیرنے کے لئے متحد ہوا اپوزیشن

نئی دہلی۔  اتراکھنڈ میں صدر راج، امریکہ کو ملک کے فوجی ٹھکانوں کا استعمال کرنے کی اجازت دینے کے معاہدہ کا حکومت کا منصوبہ اور وجے مالیہ معاملہ پر اپوزیشن کے سخت تیور کے مدنظر پارلیمنٹ کے آج سے شروع ہونے والے اجلاس کا موسم کی طرح گرم رہنا یقینی ہے۔ پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کی انکوائری کے لئے پاکستانی تفتیشی ٹیم کو ہندوستان آنے کی اجازت دینے اور اب ہندوستان کی قومی تفتیشی ایجنسی کو وہاں جانے میں پاکستان کی آناکانی کے مدنظر اپوزیشن مودی حکومت کی پاکستان پالیسی پر بھی اسے گھیرنے کی کوشش کرے گا۔ وجے مالیہ معاملہ اور سری نگر این آئی ٹی میں طلبہ کے درمیان پید ا تنازع پر حکومت کے رویے پر بھی اپوزیشن جارحانہ رخ اپنائے ہوئے ہے۔ دوسری طرف حکمراں اتحاد عشرت جہاں معاملے میں وزارت داخلہ کے حلف نامہ میں اس وقت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم کے رول سے متعلق انکشاف اور بھگوا دہشت گردی کے معاملے پر کانگریس کو بیک فٹ پر لانے کی کوشش کرے گا۔

ملک کی کئی ریاستوں میں خشک سالی اور پینے کے پانی کی کمی کی صورت حال کے درمیان شروع ہونے والے اس اجلاس میں اپوزیشن غیر بی جے پی والی ریاستوں کے لئے اس سے نمٹنے کے لئے مرکز کی طرف سے خاطر خواہ رقم نہیں دئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرے گا۔ حکومت پندرہ نشستوں کے اس مختصر اجلاس میں ریل اور عام بجٹ کے ساتھ ساتھ جی ایس ٹی او رسروس ٹیکس ، انیمی پراپرٹی بل اور وہسل بلوور جیسے کچھ اہم بلوں کو منظور کرانے کے لئے اپوزیشن کا تعاون چاہتی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ و ہ ضابطہ کے مطابق کسی بھی معاملے پر بحث کرانے کے لئے تیار ہے لیکن اہم اپوزیشن کانگریس کے تیوروں کو دیکھتے ہوئے کچھ بلوں کو منظور کرانا آسان نہیں ہوگا۔

اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے کی وجہ سے وہاں مالی سال میں خرچ کے لئے بجٹ آرڈی ننس لانے کے لئے حکومت نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے کے بعد دونوں ایوانوں کو ملتوی کردیا تھا۔ جس کی وجہ سے یہ نیا اجلاس طلب کرنا پڑا ہے جو سولہویں لوک سبھا کا آٹھواں اور راجیہ سبھا کا 239واں اجلاس ہے۔

بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے میں جہاں کانگریس نے اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کرنے کا معاملہ اٹھایا وہیں اس اجلاس میں وہ اپنے اقتدار والی ایک اور ریاست اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے پر حکومت کو گھیرنے کی تیاری میں ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ مودی حکومت ایک ایک کرکے کانگریس کی حکومت والی ریاستوں کو نشانہ بنارہی ہے او روفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ پارٹی کی طرف سے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد اور مسٹر آنند شرما نے اتراکھنڈ کے معاملے پر تحریک التوا کا نوٹس دیا ہے جس کے ذریعہ پارٹی مودی حکومت کی مذمت کرنا چاہتی ہے ۔ بائیں بازو کی جماعتیں، جنتا دل یو اور کچھ دیگر اپوزیشن پارٹیاں بھی مودی حکومت کے ذریعہ اس طرح صدر راج نافذ کرنے کی مخالفت کررہی ہیں۔ سرکار کو اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے اور وہاں کے خرچ کے متعلق مالیاتی بل کے لئے لائے گئے آرڈی ننسوں کو بھی منظور کرانا ہوگا اور راجیہ سبھا میں اقلیت میں ہونے کی وجہ سے یہ اس کے لئے ٹیڑھی کھیر ہوگی۔

Loading...

parliament_building

امریکہ کے ساتھ فوجی سازو سامان سمجھوتے کو اصولی طور پر منظوری دینے کی بھی کانگریس سخت نکتہ چینی کررہی ہے اور اس نے اسے ملک کی سالمیت کے ساتھ سمجھوتہ بتایا ہے۔ یہ سمجھوتہ ہونے پر امریکہ ہندوستانی فوجی ٹھکانوں کا استعمال کرے گا ۔ امریکہ طویل عرصے سے اس معاہدے کے لئے کوشش کررہا ہے لیکن کانگریس کی قیادت والی سابقہ حکومت اس کے لئے راضی نہیں ہوئی تھی ۔ ایسے میں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی اس معاملے پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کریں گی۔ پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملے کی جانچ کے سلسلے میں پاکستان کی مشترکہ تفتیشی ٹیم کو ہندوستان آنے دینے کے لئے بھی اپوزیشن جماعتوں نے سوال اٹھائے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایسی ٹیم کو جانچ کے لئے آنے دیا جو دہشت گردانہ حملوں او ردراندازی کرنے میں شامل رہی۔ اپوزیشن جماعت حکومت پر بینکوں کے اربوں روپے کے مقروض وجے مالیہ کے تئیں نرم رویہ اپنانے کا بھی الزام لگارہی ہے اور یہ اس معاملے کو بھی پارلیمنٹ میں زور شور سے اٹھانے کے موڈ میں ہے۔ 

Loading...