ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Twitter Controversy: پارلیمنٹری اسٹینڈنگ کمیٹی نے ٹویٹر کوجاری کیانوٹس، روی شنکرپرساد اورششی تھرور کے اکاؤنٹ بلاک کرنے پرمانگا جواب

25 جون کو ٹویٹر نے "ڈی ایم سی اے (Digital Millennium Copyright Act) کے نوٹس کی وجہ سے ہی روی شنکر پرساد کے اکاؤنٹ کو عارضی طور پر 1 گھنٹے کے لئے بلاک کردیا"۔ مرکزی وزارت نے ٹویٹر کے انہیں ایک گھنٹے کے لئے روکنے کے فیصلے پر سخت اعتراض کیا تھا اور اس کی کارروائی کو من مانی اور ہندوستان کے آئی ٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

  • Share this:
Twitter Controversy: پارلیمنٹری اسٹینڈنگ کمیٹی نے ٹویٹر کوجاری کیانوٹس، روی شنکرپرساد اورششی تھرور کے اکاؤنٹ بلاک کرنے پرمانگا جواب
ٹویٹر کے ترجمان نے کہا کہ ٹویٹر ہندوستان کے ساتھ گہری وابستگی رکھتا ہے

منگل کو کانگریس کے رہنما ششی تھرور کی سربراہی میں پارلیمنٹری اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹکنالوجی نےپارلیمنٹ سیکریٹریٹ کو 2 دن کے اندر ٹویٹر سے تحریری جوا ب طلب کرنے کی ہدایت دی ہے۔پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی نےٹویٹر سے جواب طلب کیا کہ اب مرکزی وزیر روی شنکر پرساد اور کانگریس کے تجربہ کار سیاست داں ششی تھرور کے کھاتوں کو کیوں بلاک کیا؟۔ ٹویٹر کو اس سلسلے میں دو دن کے اندر جواب دینے کو کہا گیا ہے۔


25 جون کو ٹویٹر نے "ڈی ایم سی اے (Digital Millennium Copyright Act) کے نوٹس کی وجہ سے ہی روی شنکر پرساد کے اکاؤنٹ کو عارضی طور پر 1 گھنٹے کے لئے بلاک کردیا"۔ مرکزی وزارت نے ٹویٹر کے انہیں ایک گھنٹے کے لئے روکنے کے فیصلے پر سخت اعتراض کیا تھا اور اس کی کارروائی کو من مانی اور ہندوستان کے آئی ٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔


ٹویٹر کا دفتر۔(تصویر:shutterstock)۔

روی شنکر پرساد نے جتایا تھا اعتراض


روی شنکر پرساد نے اس پورے معاملے پر پوسٹ کر تے ہوئے کہا تھا کہ دوستو! آج کچھ بہت ہی عجیب ہوا۔ ٹویٹر نے میرے اکاؤنٹ کو تقریبا ً ایک گھنٹے کے لئے بلاک کردیا اور یہ جواز پیش کیاکہ مبینہ طورپر امریکہ کے ڈیجیٹل ملینیم کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی ہیں اور بعد میں مجھے اس اکاؤنٹ تک رسائی کی اجازت دی۔

ہم آپ کو بتادیں کہ ٹویٹر کے لئےمشکلات میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔ مدھیہ پردیش اور اترپردیش کی حکومتوں نے ہندوستان کا مسخ شدہ نقشہ شائع کرنے پر ٹویٹر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 28 جون کو ، ٹویٹر نے اپنے ویب سائٹ پر شائع نقشے پرہندوستان سے باہر جموں و کشمیر اور لداخ کو علیحدہ ممالک کے طورپر پیش کیاہے۔ زبردست مخالفت کے بعد ٹویٹر نے اس نقشے کو اپنے ویب سائٹ سے ہٹادیاہے۔

اسی کے ساتھ ہی دہلی پولیس نے اب ٹویٹر کے خلاف بچوں سے متعلق فحش مواد نہ ہٹانے کے معاملے میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔ یہ معاملہ دہلی پولیس نے قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال شکایت پر درج کیا ہے۔ حال ہی میں ، دہلی پولیس کے سائبر سیل ڈی سی پی انیش رائے کو بھی اس معاملے میں قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال نے طلب کیا تھا۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jun 30, 2021 07:36 AM IST