ہوم » نیوز » وطن نامہ

سوشل میڈیا کا غلط استعمال کئے جانے کے معاملے میں پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے فیس بک، ٹوئٹر کو کیا طلب

Facebook, Twitter Executives Summoned: انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی (Parliamentary Standing Committee) نے سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے معاملے میں 21 جنوری کو فیس بک (Facebook) اور ٹوئٹر (Twitter) کے افسران کو طلب کیا ہے۔

  • Share this:
سوشل میڈیا کا غلط استعمال کئے جانے کے معاملے میں پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے فیس بک، ٹوئٹر کو کیا طلب
سوشل میڈیا کے غلط استعمال کئے جانے کے معاملے میں پارلیمانی کمیٹی نے فیس بک، ٹوئٹر کو کیا طلب

نئی دہلی: انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی (Parliamentary Standing Committee) نے سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے معاملے میں 21 جنوری کو فیس بک (Facebook) اور ٹوئٹر (Twitter) کے افسران کو طلب کیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، کمیٹی نے شہریوں کے مفاد کا خیال رکھتے ہوئے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم (Social Media News Space) اور ڈیجیٹل اسپیس میں خواتین کے تحفظ کے موضوعات پر تبادلہ خیال کے لئے فیس بک اور ٹوئٹر کے افسران کو طلب کیا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے افسران کو 21 جنوری کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔


انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی (Parliamentary Standing Committee) نے یہ سمن ایسے وقت میں بھیجا ہے، جب ڈیٹا پرائیویسی کو لے کر کافی ہنگامہ آرائی ہورہی ہے۔ میٹنگ کے لئے آفیشیل ایجنڈا میں اراکین پارلیمنٹ سے کہا گیا ہے کہ الیکٹرانکس اور  انفارمیشن ٹیکنالوجی وزارت کے نمائندوں کے لئے ثبوت اور ’محفوظ شہریوں کے حقوق اور آن لائن سوشل نیوز میڈیا پلیٹ فارم جس میں ڈیجیٹل اسپیس میں خواتین کے تحفظ پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ فیس بک روک تھام کے موضوع پر فیس بک اور ٹوئٹر کے نمائندوں کے خیالات کو سننے کے لئے’۔ دونوں ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم اکتوبر میں، ڈیٹا پروٹکشن اور پرائیویسی کے معاملوں کو لے کر پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔


وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ سے فیس بک پر لگے تھے الزام


اگستس کے مہینے میں شائع وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد فیس بک کو واضح سیاسی تعصب کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کے درمیان جوابدہی طے کرنے کے مقصد سے نئی اسٹینڈنگ کمیٹی کی تشکیل کی گئی تھی۔ دسمبر کے مہینے میں، ایک اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ نے دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا ملازمین نے اپنے خود کے ملازمین کی سیکورٹی اور تشویش کے سبب سیاسی تعصب کو دکھایا۔

اس سے پہلے ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ یہ کمٹی سیاسی سیاسی تعصبات کے موضوع پر منقسم ہوگئی تھی۔ اس پینل کے کچھ اراکین نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ برسراقتدار این ڈی اے کی شبیہ کو خراب کرنے کے لئے جان بوجھ کر کی گئی ایک کوشش ہے۔ پارلیمانی کمیٹی سیاسی مفاد کے لئے فیس بک پر لگے الزامات کو دیکھ رہی ہے۔ سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریس لیڈر ششی تھرور اس کمیٹی کے صدر ہیں۔ یہ کمیٹی گزشتہ سال ستمبر میں بتائی گئی تھی۔ واٹس اپ (Whatsapp) نے حال ہی میں اپنا نئی پرائیویسی پالیسی کی تاریخ کو 8 فروری سے بڑھا کر 15 مئی کیا ہے۔ اس پالیسی کے پیش نظر لاکھوں لوگ پہلے ہی ٹیلی گرام اور سگنل جیسے متبادل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 17, 2021 11:51 PM IST