ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ میں فائرنگ کرنے والے ملزم نے مسلم خواتین کا اغوا کرنے کے لئے اکسایا، ویڈیو وائرل

ہریانہ (Haryana) کے پٹودی (Pataudi) میں مذہب تبدیلی، لو جہاد، آبادی کنٹرول جیسے موضوع کو لے کر گزشتہ اتوار کو ایک مہاپنچایت بلائی گئی تھی۔ اس مہاپنچایات کا ایک مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے، جس میں مسلمانوں سے متعلق قابل اعتراض باتیں کہی گئی ہیں۔

  • Share this:
جامعہ میں فائرنگ کرنے والے ملزم نے مسلم خواتین کا اغوا کرنے کے لئے اکسایا، ویڈیو وائرل
جامعہ میں فائرنگ کرنے والے ملزم نے مسلم خواتین کا اغوا کرنے کے لئے اکسایا، ویڈیو وائرل

نئی دہلی: ملک کی راجدھانی دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں دسمبر 2019 سے فروری 2020 تک چلے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے قانون) (CAA Bill) مخالف احتجاج کے دوران جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پاس فائرنگ کی گئی تھی۔ گولی چلانے والا ملزم ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ ملزم نے گزشتہ اتوار کو ہریانہ کے پٹودی میں ایک مہاپنچایت میں حصہ لیا۔ اس مہا پنچایت میں اس نے بھیڑ کو مسلم خواتین کو اغوا کرنے کے لئے اکسایا۔ ساتھ ہی مسلمانوں پر حملے کرنے کی بھی بات کہی۔ اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔


ہریانہ کے پٹودی میں مذہب تبدیلی، لو جہاد، آبادی کنٹرول جیسے موضوع کو لے کر گزشتہ اتوار کو ایک مہاپنچایت بلائی گئی تھی۔ اس مہاپنچایات کا ایک مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔ اس میں جامعہ کے پاس گولی باری کرنے کا ملزم نوجوان قابل اعتراض باتیں کہتا ہوا سنائی پڑ رہا ہے۔ اس ویڈیو میں وہ کہہ رہا ہے، ’میں جہادیوں اور دہشت گردانہ ذہنیت کے لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جب میں سی اے اے کی حمایت میں جامعہ جاسکتا ہوں تو پٹودی زیادہ دور نہیں ہے‘۔ ملزم نے مسلم خواتین کے اغوا کے لئے بھیڑ کو اکسایا۔ اس نے مسلمانوں کے لئے قابل اعتراض زبان کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب ان کو مارا جائے گا تو وہ رام رام چلائیں گے۔


جامعہ ملیہ اسلامیہ میں چلائی تھی گولی


واضح رہے کہ ملزم 30 جنوری 2020 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر ہتھیار لے کر پہنچا تھا اور شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کی مخالفت میں احتجاج کر رہے لوگوں پر فائرنگ کی تھی۔ اس حادثہ میں ایک نوجوان زخمی بھی ہوا تھا۔ فائرنگ کرتے وقت وہ چلا رہا تھا، ’یہ لو آزادی... وندے ماترم، دہلی پولیس زندہ آباد‘۔ بعد میں پولیس نے اسے گرفتار کرلیا تھا۔ حالانکہ، حادثہ کے وقت اس کے نابالغ ہونے کی وجہ سے اسے جویلائن ہوم (نابالغ بچوں کے سدھار کے لئے گھر) بھیجا گیا تھا، جہاں سے حال ہی میں وہ باہر نکلا تھا۔

کارروائی کا مطالبہ

سوشل میڈیا پر صارفین اس ویڈیو کو دیکھ کر کافی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد ملزم پر قانونی کارروائی کا مطالبہ تیز ہوگیا ہے۔ اسی میٹنگ میں بی جے پی کے ترجمان اور کرنی سینی کے لیڈر سورج پال امّو بھی موجود تھے۔ ان پر بھی نفرت انگیز تقریر کرنے کا الزام ہے۔ غورطلب ہے کہ سورج پال امّو نے اس مہاپنچایت میں لوگوں سے اپیل کی تھی کہ تاریخ بنائیں، تاریخ بنیں نہیں۔

 

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 06, 2021 08:45 AM IST