ریلی میں گرجے ہاردک پٹیل، اگر حق نہیں ملا تو کمل نہیں اگے گا

احمد آباد ۔ او بی سی کوٹے کے تحت ریزرویشن کی مانگ کر رہی پٹیل برادری ہاردک پٹیل کی قیادت میں آج عظیم الشان جلسہ عام کے ذریعے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

Aug 25, 2015 11:29 AM IST | Updated on: Aug 25, 2015 11:35 AM IST
ریلی میں گرجے ہاردک پٹیل، اگر حق نہیں ملا تو کمل نہیں اگے گا

احمد آباد ۔ او بی سی کوٹے کے تحت ریزرویشن کی مانگ کر رہی پٹیل برادری ہاردک پٹیل کی قیادت میں آج عظیم الشان جلسہ عام کے ذریعے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ جی ایم ڈی سی میدان پر زبردست بھیڑ لگی ہوئی ہے اور ہاردک پٹیل ریلی سے خطاب کر رہے ہیں۔ ریلی میں ہاردک حکومت پر جم کر بھڑکے۔ کیا کیا کہا ہاردک نے پڑھیں:

ہم نے سب سے کچھ نہ کچھ سیکھا ہے، مودی صاحب سے سیکھا ہے، کیجریوال سے سیکھا ہے۔ میں کسی کے بھی سینے پر گولی نہیں چلنے دوں گا، پہلی گولی مجھ پر لگے گی۔

Loading...

ہم یہ اپنے لئے نہیں، بلکہ اپنی نسلوں کے لئے مانگ رہے ہیں۔ حکومت بھی ہوشیاری دکھا رہی ہے، نوجوانوں کو نہیں بلا رہے ہیں، بلکہ معاشرے کے بزرگوں کو بلا رہے ہیں۔ آپ نوجوان کو کیوں حق نہیں دے رہے ہیں۔ ترقی کے نام پر ووٹ ہم لائے ہیں، ہمارا وکاس کیجئے۔

ہم مودی جی آپ کے "سب کا ساتھ سب کا وکاس" کے تحت ہی کام کریں گے۔ ریزرویشن میں گھس کر سب کا ساتھ سب کا وکاس کریں گے، ہمیں اعلی ذات نہیں بننا، ہم سب کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں، سب کے ساتھ کھانا چاہتے ہیں۔

ہم کسی کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں۔ جس دن موقف کلیئر ہو گیا کہ ہم نہیں دیں گے، اس دن بیٹھے ہیں نہ وہاں، کوئی نہیں ہوگا۔ ہم بھی وہی چمڑی کے ہیں، وہ بھی وہی چمڑی کے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ ان کی سلائی مشین اچھی ہے۔

ہم اگر بھگت سنگھ بن گئے تو ساری لنکا کو آگ لگا دیں گے۔ ہم کو بلا کر دو کہ آ جاؤ بھائی، آ کر لے جاو اپنا پانچ ایجنڈا۔ چچا دے دو، ورنہ بھتیجے کو جانتے ہو۔

ہمیں اس کا افسوس ہے کہ 90 فیصد لا کر بھی ہمارا آدمی سلیکٹ نہیں ہوتا۔ یاد رکھیں کہ 90 کی دہائی میں پنجہ اکھاڑ کر پھینکا تھا، اگر حق نہیں ملا تو کمل نہیں اگےگا۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو اپنے لوگ ہیں، ان کے سامنے کیوں تحریک، یہ اپنے ہیں اسی لئے تو تحریک شروع کر رہے ہیں۔

پورے ملک میں نتیش ہمارا، چندر بابو نائیڈو ہمارا، پورے ملک میں 170 پاٹيدار ہیں، ہمارے دم پر حکومت ہے، ہمارے دم پر لیڈر ہیں۔

ہماری طاقت کو توڑنے کی کوشش ہو رہی ہے، لیکن ہم سردار پٹیل کی اولاد ہیں۔ ہم 1 کروڑ ہیں اور ملک میں 27 کروڑ ہیں، ہم بھیک نہیں مانگ رہے ہیں، ہمیں ہمارا حق چاہئے۔

پيار سے دوگے تو لے لیں گے، نہیں تو چھین کے لیں گے۔ ہم نہ تو کانگریس کے، نہ بی جے پی سے، نہ عام آدمی پارٹی سے، ہم صرف پاٹيدار معاشرے سے ہیں۔

جس دن پاٹيدار سماج اپنی اوقات پر آ گیا تو ہندوستان اپنی اوقات پر آ جائے گا۔ چاہے یہاں کی یا مرکز کی، یہ حکومت ہم نے بنائی ہے۔

جب یعقوب میمن کے لئے دیر رات عدالت عظمی کھل سکتی ہے تو نوجوانوں کے معاملے پر کیوں نہیں۔

ہم نے 200 لوگوں سے تحریک شروع کی تھی، آج یہ تحریک یہاں تک پہنچ گئی۔

ریلی سے پہلے تحریک کے رہنما 'پاٹيدار انامت آندولن سمیتی" کے کنوینر ہاردک پٹیل نے کہا کہ جی ایم ڈی سی میدان پر جلسہ عام کے بعد ایک زبردست ریلی منعقد کی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کو تکلیف نہ ہو، اس لیے ہم نے شہر اور گجرات میں مکمل بند کا اعلان کیا ہے۔ میں حکام سے کل اسکول، کالج اور دیگر کاروبار بند رکھنے کی اپیل کرتا ہوں۔

کون ہیں ہاردک پٹیل

ہاردک پٹیل ایک معمولی گریجویٹ ہے۔ عمر بھی کم ہے، صرف 22 سال لیکن، اس کے پیچھے 2 کروڑ پٹیل کھڑے ہیں۔ ہاردک احمد آباد کے ورم گاوں کے چندر پور میں 20 جولائی 1993 کو پیدا ہوا ہے۔ ایک درمیانے طبقے کے خاندان میں پیدا ہوئے ہاردک کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں ہو گا کہ اتنی کم عمر میں وہ اپنے معاشرے کا لیڈر بنے گا اور ایک ایسی تحریک کا رہنما بنے گا جس نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ریزرویشن کو لے کرہاردک نے یہ تحریک اس وقت شروع کی جب وہ خود اس کا شکار بنا۔ اس کے پڑوسی لڑکے کو کم نمبر کے باوجود سرکاری نوکری مل گئی اور وہ منہ دیکھتا رہا۔ ہاردک نے جب نوجوانوں کی بات کو منچ پر اٹھانا شروع کیا تو اس پرمنجھے ہوئے رہنماؤں نے بھی توجہ نہیں دی۔ لیکن ہاردک کو پتہ تھا کہ اس نے جس بات کو چھیڑا ہے وہ اس معاشرے کے تار کو ضرور چھوئے گی، ہوا بھی وہی محض ایک سال کے اندر ہاردک پٹیل کا نام ہر پٹیل کی زبان پر چڑھ گیا خاص طور پر نوجوانوں کی۔

Loading...