உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    احمد نگر: پٹھان بابا نے ماما بن کر بے سہارا ہندو لڑکیوں کی شادی کرکے باعزت طریقے سے انہیں کیا رخصت

    احمد نگر پٹھان بابا نے ماما بن کر بے سہارا ہندو لڑکیوں کی شادی کرکے باعزت طریقے سے انہیں کیا رخصت

    احمد نگر پٹھان بابا نے ماما بن کر بے سہارا ہندو لڑکیوں کی شادی کرکے باعزت طریقے سے انہیں کیا رخصت

    مہاراشٹر سے ایک ایسی خبر آئی، جس نے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو اجاگر کیا ہے۔ دوہندو بہنوں کی مسلم ماما کے ذریعہ رخصتی کرنے سے متعلق تصویریں ان دنوں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی ہے۔

    • Share this:
    احمد نگر :کورونا کے موجودہ ہنگامی حالات میں ملک میں ہندوؤں او مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے والی بہت سی خبریں آتی رہتی ہیں،  اسی طرح دونوں مذاہب میں بھائی چارہ کو فروغ دینے کی کوشش کرنے والے واقعات بھی ملک میں پیش آ رہے ہیں۔ اسی طرح ملک کے مختلف مقامات پر ہندوؤں، مسلمانوں نے ایک دوسر ے کی مدد کرنے سے متعلق بھی کئی واقعات ہماری نظروں کی سامنے ہیں۔ ایسے میں مہاراشٹر سے ایک ایسی خبر آئی، جس نے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو اجاگر کیا ہے۔ دوہندو بہنوں کی مسلم ماما کے ذریعہ رخصتی کرنے سے متعلق تصویریں ان دنوں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی ہے۔

    انسانیت، مذہب، لاک ڈاؤن میں بھائی چارہ کا مظاہرہ اس طرح کے تاثرات کے ساتھ ان تصویروں کو لوگ ایک دوسرے کو شیئر کر رہے ہیں۔ جبکہ کچھ انٹرنیٹ کے استعمال کرنے والے افراد اس تصویر کو اپنے واٹس ایپ کے اسٹیٹس پر لگاکر قومی یکجہتی کی مثال کے طورپر پیش کر رہے ہیں۔ ان جذباتی تصویروں کو دیکھ کر کئی لوگوں کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ ایک مسلم ماما نے اپنے منہ بولی ہندو بہن کی دو بیٹیوں کی شادی میں اہم کردار ادا کیا اور انہیں والد کی حیثیت سے رخصتی کی۔ شادی کے بعد سسرال جاتے ہوئے ان لڑکیوں نے نہایت جذباتی اندا ز میں اپنے منہ بولے ماما سے ملاقات کی اور ان سے گلے لگ کر رونے لگیں۔ یہ دیکھ کر سبھی لوگ جذباتی ہوگئے۔

     بھوسارے خاندان کی دونوں لڑکیوں کی شادی میں ماما پٹھان نے کنیا دان کے سارے فرائض ادا کئے اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی شاندار مثال پیش کی۔

    بھوسارے خاندان کی دونوں لڑکیوں کی شادی میں ماما پٹھان نے کنیا دان کے سارے فرائض ادا کئے اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی شاندار مثال پیش کی۔


    یہ واقعہ مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع کے بودھے گاؤں کا ہے۔ یہاں رہنے والی سویا بھوساری نامی خاتون ایک کسان گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کی دو لڑکیاں اور ایک لڑکا ہے۔ شوہر چھوڑ کر چلا گیا، جس کی وجہ سے سویتا اپنے بچوں کو لے کر اپنے والدین کے گھر میں رہتی ہے۔ گاؤں دیہاتوں میں محنت مزدوری کرکے سویتا نے اپنے بچوں کو پال پھوس کر بڑا کیا۔ سوینا کا کوئی بھائی نہیں ہے، اس لئے اپنے گھر کے سامنے رہنے والے پڑوسی بابا پٹھان کو اس نے اپنا منہ بولا بھائی بنایا۔ پٹھان بابا نے بھی مذہب اور ذات کی دیواروں سے اوپر اٹھ کر انسانیت کے جذبے سے ان کی ہر طرح سے مدد و رہنمائی کی۔ اب جبکہ سویتا کی دونوں بیٹیوں کی شادی طے پائی تو اس کےلئے بھی پٹھان بابا نے اپنی استطاعت کے مطابق شادی کا تقریباً نصف خرچ اٹھایا اور ان بچوں کا ماما بن کر انہیں رخصت کرکے باعزت طریقے سے ازدواجی زندگی گذارنے کی راہ ہموار کی۔

    بھوسارے خاندان کی دونوں لڑکیوں کی شادی میں ماما پٹھان نے کنیا دان کے سارے فرائض ادا کئے اور ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی شاندار مثال پیش کی۔ ملک کے موجودہ حالات میں جہاں ایک طرف چند لوگ مختلف مذاہب کے درمیان نفرتیں پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسے میں پٹھان بابا نے ہندو مذہب کی بچیوں کی سرپرستی کرکے باہمی پیار ومحبت کا پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس انوکھی شادی کی تصویریں ان دنوں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہورہی ہیں اور لوگ اس واقعہ کو ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی سچی مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: