உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کی مشکلات میں اضافہ، سی بی آئی نے ضمانت رد کرنے کا مطالبہ کیا، یہ ہے معاملہ

    بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کی مشکلات میں اضافہ

    بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کی مشکلات میں اضافہ

    Bihar Politics: سی بی آئی نے بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو پر شکنجہ کسا ہے۔ سی بی آئی نے آئی آر سی ٹی سی ٹینڈر گھوٹالے سے متعلق دہلی ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ جانچ ایجنسی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں تیجسوی یادو کو ملی ضمانت منسوخ کردی جائے۔ جانچ ایجنسی نے سال 2018 میں آئی آر سی ٹی سی ٹینڈر گھوٹالہ معاملے میں آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو، سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیو اور نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو سمیت 14 افراد پر چارج شیٹ داخل کی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Patna, India
    • Share this:
      نئی دہلی: بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ آئی آرسی ٹی سی (IRCTC) گھوٹالہ معاملے میں سی بی آئی نے راوز ایوینیو کورٹ میں ان کے خلاف عرضی داخل کی۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں انہیں دی گئی ضمانت کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس پر راوز ایوینیو کورٹ نے تیجسوری یادو کو نوٹس بھی جاری کردیا۔ جانچ ایجنسی نے سال 2018 میں آئی آر سی ٹی سی ٹینڈر گھوٹالہ معاملے میں آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو، سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو سمیت 14 لوگوں پر چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس وقت مانا جا رہا تھا کہ اس معاملے کی وجہ سے تیجسوی یادو کے سیاسی کیریئر کے ابتدائی دور میں ہی گرہن لگ سکتا ہے۔

      جس وقت سی بی آئی نے یہ چارج شیٹ داخل کی تھی، اس وقت لالو پرساد یادو پہلے ہی چارہ گھوٹالہ میں سزا کاٹ رہے تھے اور ان کا ایمس میں علاج چل رہا تھا۔ واضح رہے کہ سال 2004 میں اس وقت کے وزیر ریل لالو پرساد یادو نے ریلوے کے دو ہوٹلوں کو آئی آرسی ٹی سی کو ٹرانسفر کیا گیا تھا۔ انہوں نے ان کی نگرانی کرنے کے لئے ٹینڈر بھی جاری کئے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      اے سی بی کی چھاپہ ماری کے بعد عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان گرفتار 

      یہ بھی پڑھیں۔

      ہماچل پردیش الیکشن: شملہ پہنچیں مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی، کالے جھنڈوں کے ساتھ کانگریسیوں نے کیا استقبال

      اس دوران پتہ چلا کہ ٹینڈر دینے میں گڑبڑی ہوئی تھی۔ جانچ میں پایا گیا کہ لالو یادو نے وزیر ریل رہتے ہوئے ریلوے کے پوری اور رانچی واقع دو ہوٹلوں کا الاٹمنٹ کوچر برادران کی کمپنی سجاتا ہوٹل کو دے دیا تھا۔ اس کی تقسیم میں، قواعد کو مکمل طور پر طاق پر رکھ دیا گیا تھا۔ اس الاٹمنٹ کے عوض میں لالو پرساد یادو کو پٹنہ میں کروڑوں روپئے کی زمین ایک شیل کمپنی ڈیلائٹ مارکیٹنگ کے ذریعہ منتقل کی گئی تھی۔ اس کمپنی کو اب لارا پرائیویٹ کمپنی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

      یہ بات آئی تھی سامنے

      اس وقت سی بی آئی کے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانا کے ہاتھ میں اس کیس کی ذمہ داری آئی۔ سی بی آئی کے مطابق، ابتدائی جانچ میں سامنے آیا تھا کہ ہوٹل الاٹمنٹ میں گڑبڑیاں ہوئی ہیں۔ ہوٹل لیز پر دینے کے بدلے زمین لی گئی۔ 65 لاکھ روپئے میں 32 کروڑ کی زمین لی گئی۔ دوسری طرف، یہ بھی کہا جارہا تھا کہ اگر تیجسوی یادو پر الزام ثابت ہوجاتا تو انہیں 7 سال کی سزا ہوجاتی۔ ایسے میں تیجسوی یادو ایک بھی الیکشن نہیں لڑ پاتے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اگر کسی بھی شخص کو 6 ماہ سے زیادہ کی سزا ہوتی ہے تو ریپرنزنٹیشن آف پیپل ایکٹ کے تحت التزام ہے کہ وہ شخص الیکشن نہیں لڑسکتا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: