உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بوائے فرینڈ کے ساتھ کمرے میں پکڑی گئی خاتون سپاہی، گھروالوں نے کی نوجوان کی جم کر پٹائی

    بوائے فرینڈ کے ساتھ کمرے میں پکڑی گئی خاتون سپاہی، گھروالوں نے کی نوجوان کی جم کر پٹائی

    بوائے فرینڈ کے ساتھ کمرے میں پکڑی گئی خاتون سپاہی، گھروالوں نے کی نوجوان کی جم کر پٹائی

    چوری چھپے طریقے سے کی گئی عاشقی اکثر بھاری پڑجاتی ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ بہار کی راجدھانی پٹنہ (Patna) میں سامنے آیا ہے، جہاں خاتون کانسٹبل (Female Constable) اور اس کا بوائے فرینڈ (Boyfriend) ایک ساتھ کمرے میں پکڑے گئے۔ حادثہ شاستری نگر تھانہ علاقے کے راجہ بازار علاقے کا ہے۔

    • Share this:
      پٹنہ: چوری چھپے طریقے سے کی گئی عاشقی اکثر بھاری پڑجاتی ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ بہار کی راجدھانی پٹنہ (Patna) میں سامنے آیا ہے، جہاں خاتون کانسٹبل (Female Constable) اور اس کا بوائے فرینڈ (Boyfriend) ایک ساتھ کمرے میں پکڑے گئے۔ حادثہ شاستری نگر تھانہ علاقے کے راجہ بازار علاقے کا ہے۔ خاتون سپاہی کے اہل خانہ نے جم کر ہنگامہ کیا اور انہوں نے نوجوان کی جم کر پٹائی کی۔ ہنگامہ بڑھنے پر مقامی لوگوں نے مداخلت کی، جس کے بعد یہ معاملہ خاتون تھانے پہنچ گیا۔ خاتون پولیس نے تفتیش میں عاشق جوڑے (Lovers) کو بالغ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر دونوں راضی ہیں تو پھر اس معاملے میں پولیس بھی کوئی مداخلت نہیں کرسکتی ہے۔

      موصولہ اطلاع کے مطابق، خاتون سپاہی اور اس کا عاشق کئی دنوں سے لیوان ریلیشن میں رہ رہے تھے، لیکن ہفتہ کے روز دونوں پکڑے گئے۔ دونوں سارن ضلع کے چھپرا کے رہنے والے ہیں اور ایک دوسرے کو کافی وقت سے جانتے ہیں۔ خاتون سپاہی نے اپنے عاشق کے ساتھ شادی کرنے کی رضامندی ظاہر کی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ لڑکا پرائیویٹ جاب کرتا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں الگ الگ ذات کے ہیں۔ ان سب وجوہات سے نوجوان خاتون سپاہی کے گھر والوں کو ناگوار گزر رہا تھا اور وہ اسے پسند نہیں کرتے تھے۔

      تاہم ان سب کے باوجود خاتون سپاہی اپنے عاشق سے شادی کرنے کی بات پر قائم تھی۔ خاتون تھانہ کی انچارج کشوری سہچری کا کہنا تھا کہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ذات الگ ہونے کے سبب لڑکی کے گھر والے مخالفت کر رہے ہیں، لیکن دونوں بالغ ہیں، اس لئے اگر کوئی ان کی شادی کی مخالفت کرے گا تو اس پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ حالانکہ بتایا جارہا ہے کہ فیملی کے لوگوں نے اب ان کے رشتے کو منظوری دے دی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: