உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھاگلپور دھماکہ کی جانچ بہار ATS کے حوالے، 4 رکنی ٹیم جائے حادثہ کے لئے روانہ

    بھاگلپور دھماکہ کی جانچ بہار ATS کے حوالے، 4 رکنی ٹیم جائے حادثہ کے لئے روانہ

    بھاگلپور دھماکہ کی جانچ بہار ATS کے حوالے، 4 رکنی ٹیم جائے حادثہ کے لئے روانہ

    illegal business of firecrackers: بھاگلپور سے لے کر پٹنہ پولیس ہیڈ کوارٹر کے افسر دعویٰ کر رہے ہیں کہ پٹاخہ بنانے کے دوران ہی یہ حادثہ ہوا ہے۔ مگر جائے حادثہ کے حالات کچھ اور ہی اشارہ کر رہے ہیں۔ مقامی ذرائع بتاتے رہے ہیں کہ جس لیلاوتی کے گھر میں یہ دھماکہ ہوا، اس کے گھر میں ہر وقت 8 سے 10 بورا دھماکہ رکھا ہوا رہتا ہے۔ جبکہ گزشتہ 21 سالوں سے اس کے پاس پٹاخہ بنانے کا کوئی لائسنس نہیں ہے۔

    • Share this:
      پٹنہ: بھاگلپور ضلع کے تاتارپور تھانہ علاقے واقع کاج بلی چک میں دیر رات ایک مکان میں ہوئے دھماکہ نے پولیس ہیڈ کوارٹر کو بھی ہلاکر رکھ دیا ہے۔ پولیس ہیڈ کوارٹر نے بھاگلپور کو اس دھماکے کی ہر اعتبار سے جانچ کرکے تفصیلی رپورٹ جلد دینے کو کہا ہے۔ اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر سنجے سنگھ کے مطابق، فوری طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ دھماکہ پٹاخے کی فیکٹری میں ہوئی ہے، لیکن جس طرح کا دھماکہ ہوا ہے، اس سے کئی طرح کے سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ فی الحال اس کی جانچ بھاگلپور پولیس اور ایف ایس ایل کی ٹیم کر رہی ہے۔ ضرورت پڑنے پر اے ٹی ایس بھی جانچ کرے گی۔ اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر سنجے سنگھ یہ بھی کہتے ہیں کہ حال کے دنوں میں بھاگلپور اور آس پاس کے اضلاع میں بموں کا سلسلہ وار طور پر ملنا اور دھماکہ ہونا تشویش پیدا کر رہا ہے۔

      واضح رہے کہ کچھ دنوں پہلے بھی بھاگلپور میں دھماکہ کے حادثات ہوئے تھے، اس وقت بھی اے ٹی ایس کو جانچ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ اس حادثہ کی بھی جانچ اے ٹی ایس سے کرائی جائے گی۔ اگر مقامی سطح پر بھی کوئی بدعنوانی ہوئی ہوگی تو اس کی بھی جانچ کرائی جائے گی۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      نواب ملک کو داود ابراہیم سے جوڑا جا رہا ہے کیونکہ وہ مسلمان ہیں: شرد پوار کا سنسنی خیز انکشاف

      ہر وقت گھر میں رہتا ہے 8 سے 10 بورا دھماکہ خیز اشیا

      اس حادثے کے بعد چرچا کا بازار گرم ہے۔ بھاگلپور سے کر پٹنہ پولیس ہیڈ کوارٹر تک کے افسران دعویٰ کر رہے ہیں کہ پٹاخہ بنانے کے دوران ہی یہ حادثہ ہوا ہے۔ مگر جائے حادثہ کے حالات کچھ اور ہی اشارہ کر رہے ہیں۔ زخمیوں سے بات چیت میں بھی پٹاخے والی بات واضح نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری طرف مقامی ذرائع بتا رہے ہیں کہ جس لیلاوتی کے گھر میں یہ دھماکہ ہوا، اس کے گھر میں ہر وقت 8 سے 10 بورا دھماکہ خیز اشیا رکھا ہوا رہتا ہے۔ جبکہ گزشتہ 21 سالوں سے اس کے پاس پٹاخہ بنانے کا کوئی لائسنس نہیں ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      روس - یوکرین جنگ: 14 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے چھوڑا ملک، مغربی ممالک کو ولادیمیر پتن کی وارننگ

      آئی بی کی اِن پُٹ والی بات غلط

      نیوز 18 نے بھاگلپور کے ڈی آئی جی سجیت کمار ےس اس مسئلے پر بات کی۔ انہوں نے آئی بی کی طرف سے کسی طرح کے اِن پُٹ ملنے کی بات سے واضح طور پر انکار کیا ہے۔ سجیت کمار کے مطابق دھماکہ کے ساتھ ساتھ ملبہ میں دبنے سے بیشتر لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ شب برات اور شادی کے سیزن کو لے کر غیرقانونی طریقے سے پٹاخہ بنانے کا کام چل رہا تھا اور اسی دوران دھماکہ ہوا۔ فی الحال پورے معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔

      امت کمار کی رپورٹ
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: