ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

Modi Cabinet Reshuffle: بیک فٹ پر نتیش کمار، صرف ایک وزارت سے ہی کرنا پڑا اتفاق

Modi Cabinet Reshuffle: آخر کار جے ڈی یو علامتی طور پر ہی مرکزی کابینہ میں شامل ہوا۔ جے ڈی یو کوٹے سے صرف ایک ہی وزیر بنایا گیا ہے۔ پارٹی کے قومی صدر آرسی پی سنگھ مرکزی کابینہ میں شامل کئے گئے ہیں۔

  • Share this:
Modi Cabinet Reshuffle: بیک فٹ پر نتیش کمار، صرف ایک وزارت سے ہی کرنا پڑا اتفاق
Modi Cabinet Reshuffle: بیک فٹ پر نتیش کمار، صرف ایک وزارت سے ہی کرنا پڑا اتفاق

پٹنہ: مرکز میں مودی کابینہ کی توسیع ہو رہی ہے۔ سال 2019 میں مرکزی کابینہ میں شامل ہونے میں ناکام رہی جے ڈی یو اس بار کابینہ میں شامل ہوئی ہے۔ حالانکہ پارٹی بیک فٹ پر ہے۔ اس بار بھی جے ڈی یو کو صرف ایک سیٹ سے اکتفا کرنا پڑا ہے۔ سال 2019 میں مودی کابینہ میں ایک سیٹ ملنے سے ناراض وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے علامتی شراکت سے انکار کردیا تھا۔ سال 2019 سے 2021 آگیا، لیکن وزیر اعظم مودی نے نتیش کمار کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا۔ اس بار بھی جے ڈی یو کو ایک وزارت ہی دی گئی ہے۔ پارٹی کے قومی صدر آرسی پی سنگھ مرکزی کابینہ میں شامل کئے گئے ہیں۔


واضح رہے کہ سال 2019 میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار جو اس وقت جے ڈی یو کے قومی صدر تھے، دہلی سے واپس لوٹ کر پٹنہ ایئر پورٹ پر واضح طور پر کہا تھا کہ مرکزی کابینہ میں علامتی شراکت نہیں چاہئے۔ نتیش کمار نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جے ڈی یو سے صرف ایک شخص کو کابینہ میں جگہ دے رہے تھے، ایسے میں حکومت میں جے ڈی یو کی علامتی شراکت ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں بتا دیا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ پٹنہ ایئر پورٹ پر نتیش کمار نے کہا تھا کہ یہ کوئی بڑا موضوع نہیں ہے اور ہمیں افسوس نہیں ہے۔


نرم نہیں پڑے نتیش کمار کے تیور


سال 2019 کے بعد سال 2021 میں آج جب مرکزی کابینہ کی توسیع کی گئی، اس بار نتیش کمار کا لہجہ پوری طرح سے بدلا ہوا نظر آیا۔ اتفاق دیکھئے کہ آج بھی پٹنہ ایئر پورٹ پر ہی وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے مرکزی کابینہ کی توسیع میں جے ڈی یو کوٹے سے وزرا کی تعداد پر بات کی، لیکن اس بار وزیر اعلیٰ کا 2019 والا تیور غائب نظر آیا۔ آج نتیش کمار پوری طرح سے بیک فٹ پر نظر آئے۔ صحافیوں نے جب کابینہ توسیع میں جے ڈی یو کی شراکت پر سوال کیا تو نتیش کمار نے کہا کہ تھوڑی دیر میں سب کچھ پتہ چل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سے نہیں نہ فیصلہ کریں گے۔

دو سال میں آگیا بڑا فرق

دراصل سال 2019 اور سال 2021 میں کافی فرق آگیا ہے۔ تب نتیش کمار کی پارٹی بہار این ڈی اے میں بڑے بھائی کے کردار میں تھی۔ جے ڈی یو کے پاس 73 اراکین اسمبلی تھے اور اتحادی بی جے پی کے پاس 50 سے زیادہ۔ وقت نے کروٹ لی اور آج نتیش کمار کی پارٹی بہار میں تیسرے نمبر کی ہوگئی۔ اتحادی بی جے پی بڑے بھائی کے کردار میں کھڑی ہوگئی۔ سال 2020 اسمبلی انتخابات میں جے ڈی یو محض 43 سیٹوں پر جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ ایسے میں نتیش کمار کی صورتحال 2019 والی نہیں رہی۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ جے ڈی یو مودی کابینہ میں دو کابینی وزرا اور کم از کم دو ریاستی وزرا کا مطالبہ کر رہی تھی، لیکن اتحادی جے ڈی یو کے مطالبہ کو بی جے پی نے مسترد کردیا۔ لوک سبھا الیکشن 2019 میں بہار کی 40 سیٹوں میں سے بی جے پی اور جنتا دل یونائیٹیڈ (جے ڈی یو) نے 17-17 سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا۔ 6 سیٹوں پر رام ولاس پاسوان کی پارٹی لوک جن شکتی کے امیدوار کھڑے ہوئے تھے۔ بی جے پی کے 17، جے ڈی یو کے 16 اور ایل جے پی کے سبھی 6 امیدوار الیکشن جیتے تھے۔

 

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 08, 2021 12:57 AM IST