دکنی خبریں اسپیشل : پتھرکا گوشت دکن کی ایک منفرد اور مزیدارڈش۔ دیکھیں ویڈیو

حیدرآبادی کھانوں میں بہت سے مشہورپکوان ہیں جن کی تیاری کے طریقے دوسرے علاقوں کے لوگوں سے خاصی مختلف ہیں۔ ان پکوان میں حلیم کا نام سب سے پہلے لوگوں کے ذہن میں آتاہے، اس زمرے میں ایک اورڈش پتھر کا گوشت بھی ہے،

Oct 13, 2019 05:07 PM IST | Updated on: Oct 13, 2019 05:46 PM IST
دکنی خبریں اسپیشل : پتھرکا گوشت دکن کی ایک منفرد اور مزیدارڈش۔ دیکھیں ویڈیو

دکنی خبریں اسپیشل : پتھرکا کوشت دکن کی ایک منفرد اور مزیدارڈش۔

حیدرآبادی کھانوں میں بہت سے مشہورپکوان ہیں جن کی تیاری کے طریقے دوسرے علاقوں کے لوگوں سے خاصی مختلف ہیں۔ ان پکوان میں حلیم کا نام سب سے پہلے لوگوں کے ذہن میں آتاہے، اس زمرے میں ایک اورڈش پتھر کا گوشت بھی ہے، جہاں بغیرہڈی والے بکری کے گوشت کے ٹکڑوں کو پکانے کے لئے ایک گرم پتھر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ آصف جاہی دور کے چھٹے نظام کے دور میں یہ ڈیش بہت پسندیدہ تھی، حیدرآباد میں کھانے کے شوقین حضرات اب بھی اس ڈیش کی تلاش کرتے نظرآتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ 19 ویں صدی کے آخرمیں نظام آصف جاہی ششم جنگلات میں اکثرشکارکے لیے جاتے تھے۔ اسی طرح کے ایک سفرمیں ، انکے کے باورچی اپنے سیخیں لیے جانا بھول گئے اورشکنجوں کوکباب تیار کرنے کے لیے اسکی کی ضرورت تھی۔ تاہم اب جنگل پہنچنے کے بعد نظام آصف جاہی ششم کی کباب کی فرمائش پوری کرنے تھی۔ اس لیے باورچی نے نیچے سے لکڑی کے ذریعہ گرم فلیٹ گرینائٹ پتھرپرمٹن پکاتے ہوئے اس کی شروعات کی تھی اور بعدمیں آصف جاہی ششم یہ ڈش بہت پسند آئی۔ جس کے بعد یہ نسخہ بار بار شاہی کچن میں زینت بنتاگیا۔ ایک صدی سے زیادہ کے بعد،اب یہ ڈش ناصرف شہر حیدرآباد پوری دنیا میں مبقول ہے۔خصوصاً حیدرآباد کی سالانہ نمائش کے دوران بہت سےلوگ نمائش کے میدان میں اپنا پسندیدہ پتھرکا گوشت کھانے کے لیے اسٹالس تلاش کرتے نظرآتے ہیں۔ تاہم،پتھرپرکھاناپکاناصرف حیدرآباد کی ہی خصوصیت نہیں ہے ،بلکہ یہ عرب ممالک میں بھی عام ہے۔ ہندوستان میں، ممبئی اور بنگلورو میں بھی پتھرکے گرم سلیبس پرتیاراسٹریٹ فوڈ کی محدود دستیابی ہے۔

وہیں دوسری جانب مورخیں کا کہناہےکہ پتھرکا گوشت ایک زمانہ تھا جب دوردرازعلاقوں کے سفر خاص طورفوج کے سپاہیوں کوجنگل میں مزیدارکھانے نہیں ملتے تھے سفرکے دوران نہ تو انکے پاس برتن رہتے اور نہ خوشبودار مسالے اس مسلہ کا حل اس دور میں کسی عقلمند شخص نے پتھر کی مددسے ڈھونڈ نکالا۔ 17 ویں صدی کا زمانہ تھا دکن کا علاقہ محاصرہ میں تھا خاص طورپردوردرازعلاقوں اور چھوٹے چھوٹے دیہاتوں اورقصبوں میں ضروریات زندگی کھانے پینے کی چیزوں کی قلت تھی۔

Loading...

گاؤں کے لوگ تو جیسے تیسے گذارا کر لیتے تھے لیکن ان دوردراز علاقوں میں ڈیوٹی انجام دینے والے فوجی مزیدار کھانوں کے لیے ترستے تھے جنگل میں گوشت تومل جاتاتھا لیکن مسالے نہیں تھے نمک تک نہیں تھا پکانے کے لیے برتن نہیں تھے۔ان حالات میں ان لوگوں نے گوشت کو اچھی طرح بھوننے کا طریقہ دریافت کیا۔ان لوگوں کا مشاہدہ تھا کہ تلنگانہ میں جو پتھر ہر جگہ دستیاب ہوتا ہے ۔۔۔گرانایٹ۔۔۔ اس کو مویشی اور جانور چاٹتے ھیں کیونکہ اس کا ایک خاص مزہ ہوتا ہے اور وہ نمکین ہوتا ہے۔۔لہذا ان لوگوں نے گرانایٹ پتھرکو انگاروں پر خوب گرم کرکے اس پر بھوننے کی ترکیب نکالی۔ سونچ یہ تھی کہ کیا بغیر نمک مرچ اور مسالوں کے بھی صرف پتھر میں موجود منرلز۔۔ گوشت کو مزیدار بنا سکتے کیا؟ لیکن اسطرح بھوننے کے بعد اس کا رزلٹ امید سے بھی بہتر تھا تقریباً ایک ہزار ڈگری درج حرارت سخت سے سخت گوشت کو اتنا نرم اتنا مذیدار بھو نتی ہے کہ گوشت منہ میں ڈالو ایسا لگتا ہے گھل گیا ہے

Loading...