محبوبہ مفتی نے کہا 'ہندوستان ایک سیکولر ملک، امت شاہ اپنےبیان پرملک سے معافی مانگیں'۔

پی ڈی پی صدرنےکہا کہ جموں وکشمیرنےہندوستان کےساتھ ملنے کا فیصلہ اس کےسیکولر کردارکودیکھتے ہوئےکیا ہے۔

Apr 12, 2019 09:59 PM IST | Updated on: Apr 12, 2019 10:02 PM IST
محبوبہ مفتی نے کہا 'ہندوستان ایک سیکولر ملک، امت شاہ اپنےبیان پرملک سے معافی مانگیں'۔

محبوبہ مفتی: فائل فوٹو

سری نگر: بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کے بیان کہ 'ہندو، سکھ اوربدھشٹوں کو چھوڑ کر دیگر تمام دراندازوں کو ملک سے نکال باہر کردیں گے' پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی صدر کو ملک کے عوام سے معافی مانگنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولرملک ہے اوریہ کسی مخصوص مذہب کےلئےنہیں بنا ہے۔

محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے کنگن میں ایک انتخابی جلسے کے حاشیہ پر نامہ نگاروں کو بتایا 'ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ جموں وکشمیر نے بھی ہندوستان کے ساتھ ملنے کا فیصلہ اس کےسیکولر کردارکودیکھتے ہوئےکیا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ امت شاہ صاحب کولوگوں سے معافی مانگنی چاہئے'۔

انہوں نےکہا 'یہ ملک سیکولربنیادوں پربنا ہے۔ یہ ملک کسی مخصوص مذہب کے لئے نہیں بنا ہے۔ یہ ملک سب کا ہے۔ یہ لوگ ایسے بیانات دیکر ملک کی بنیادیں ہلانا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ ملک کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے بیانات ہندوستان کے سیکولرتانے بانےکو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس کے لئے انہیں معافی مانگنی چاہیے'۔

واضح رہے کہ امت شاہ نے جمعرات کو مغربی بنگال میں انتخابی جلسوں سے خطاب کے دوران ہندووں، سکھوں اور بدھشٹوں کوچھوڑ کر سبھی پناہ گزینوں کوملک بدر کرنے کی بات کہی۔ انہوں نے رائے گنج میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتےہوئےکہا تھا 'اگر ہم اقتدار میں آگئے تو بنگال میں این آرسی کونافذ کرکے دراندازوں کو نکال باہرکردیں گے'۔

Loading...

Loading...