ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پی ڈی پی لیڈر ڈاکٹر عمران ڈار کو نینی سینٹرل جیل سے کیا گیا رہا ، جانیں کیوں کیا گیا تھا گرفتار

ڈاکٹرعمران ڈار کو گذشتہ سال 11 اگست کو کشمیر سے گرفتارکیا گیا تھا۔ وادی سے گرفتار کرنے کے بعد عمران احمد ڈار کو نینی سینٹرل جیل لایا گیا تھا۔

  • Share this:
پی ڈی پی لیڈر ڈاکٹر عمران ڈار کو نینی سینٹرل جیل سے کیا گیا رہا ، جانیں کیوں کیا گیا تھا گرفتار
پی ڈی پی لیڈر ڈاکٹر عمران ڈار کو نینی سینٹرل جیل سے کیا گیا رہا ، جانیں کیا ہے اصل معاملہ

کشمیر میں جاری سیاسی تعطل ختم کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے ریاست کے سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے ۔ الہ آباد کے نینی سینٹرل جیل میں گذشتہ چھ ماہ سے بند پیپلز ڈیموکرٹک پارٹی ( پی ڈی پی ) کےسینئر لیڈر ڈاکٹر عمران احمد ڈار کو رہا کر دیا گیا ہے ۔ ڈاکٹرعمران احمد ڈار کو ریاست جموں کشمیر سے آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کو منسوخ کئے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا ۔ ڈاکٹر عمران احمد  ڈار پی ڈی پی یوتھ ونگ کے جنرل سکریٹری ہیں۔


ڈاکٹرعمران ڈار کو گذشتہ سال  11 اگست کو کشمیر سے گرفتارکیا گیا تھا۔ وادی سے گرفتار کرنے کے بعد عمران احمد ڈار کو نینی سینٹرل جیل لایا گیا تھا۔ عمران ڈار کی رہائی کے وقت ان کے والد محمد ابراہیم اور چھوٹے بھائی عرفان احمد ڈار نینی سیٹرل جیل پہنچے تھے ۔ عمران ڈار کو پارٹی صدر محبوبہ مفتی کا کافی قریبی سمجھا جاتا ہے۔ محبوبہ مفتی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد عمران ڈار پارٹی کے ٹکٹ پر سرپنچ منتخب ہوئے تھے ۔ 5 اگست کو مرکزی حکومت کی طرف سے ریاست جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کئے جانے کے اعلان کے بعد درجنوں سیاسی لیڈروں کے ساتھ ہی عمران ڈار کو بھی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لے لیا گیا تھا ۔


عمران احمد ڈار نے بنگلورو سے ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کی ہے۔ نینی سینٹرل جیل سے رہا ہونے کے بعد عمران ڈار نے کہا کہ انہیں نینی سینٹرل جیل میں رہنے کا کوئی افسوس نہیں ہے ۔ عمران ڈار نے اپنی حراست کو غیر قانونی بتاتے ہوئے مرکزی حکومت سے سیاسی لیڈران کی گرفتاری سے باز رہنے کی بھی اپیل کی۔


واضح رہے کہ ماضی میں بھی نینی سینٹرل جیل میں کشمیر کے کئی اہم لیڈران قید رہے ہیں ۔ میں علاحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی کا نام سر فہرست ہے ۔ اس وقت بھی نینی سینٹرل جیل میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے کئی عسکریت پسند قید ہیں۔  ان میں ایودھیا حملے کے قصوروار آصف اقبال سمیت کئی عسکریت پسندوں کو ہائی سکیورٹی کے بیرکوں میں رکھا گیا ہے۔
First published: Jan 20, 2020 09:20 PM IST