ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تبلیغی جماعت تنازع کو لے کر نفرت انگیزی کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی پیس پارٹی

آرٹیکل 21 اور 14 کے ساتھ ساتھ 19 کو بنیاد بناتے ہوئے عرضی میں عدالت سے درخواست کی گئی کہ وہ میڈیا کو نفرت انگیزی روکنے کو لے کر حکم جاری کرے ۔

  • Share this:
تبلیغی جماعت تنازع کو لے کر نفرت انگیزی کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی پیس پارٹی
تبلیغی جماعت اور کورونا وائرس کو لےکر بے بنیاد خبریں نشر کرنے سے متعلق جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے داخل کی گئی۔ فائل فوٹو

اترپردیش کی سیاسی پارٹی پیس پارٹی نے تبلیغی جماعت معاملہ کو لے کر سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی ہے  ۔ عرضی میں پیس پارٹی اور اس کے صدر ڈاکٹر محمد ایوب پٹیشنر ہیں ، جبکہ وزارت داخلہ کے سکریٹری اور وزارت اطلاعات و نشریات کے سکریٹری کو فریق بناتے ہوئے حکومت ہند کو فریق بنایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ پریس کونسل آف انڈیا کو بھی فریق بنایا گیا ہے ۔ ایڈوکیٹ مریگنک پربھاکر کی جانب سے داخل کی گئی عرضی میں کہا گیا ہے کہ 30 مارچ کو تبلیغی جماعت کے مرکز کو لے کر پورے ملک میں نفرت انگیزی کی سازش کی گئی اور ایک مہم چلائی گئی ۔ نیوز چینلوں کے علاوہ شوشل میڈیا پر بھی نفرت انگیز چیزیں شیئر کی گئیں ۔ نیوز چینلوں کے ذریعہ کورونا جہاد سے لیکر ایسی ہیڈ لائنس لگائی گئیں ، جس سے سماج میں تقسیم پیدا ہوئی اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی  ۔ پورے مسلم سماج اور طبقہ کو کورونا وائرس پھیلانے کے لیے ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔


عرضی میں کہا گیا ہے کہ وزارت اطلاعات و نشریات  فرقہ پرستی اور نفرت انگیزی کر رہے میڈیا چینلوں پر روک لگانے میں ناکام رہی ۔ جبکہ وزارت صحت کے سکریٹری کے ذریعہ بیان دیا گیا کہ کورونا وائرس پھیلنے کے لیے تبلیغی جماعت ذمہ دار ہے جبکہ اس طرح کے بیان کی کوئی بنیاد نہیں تھی ۔ دہلی اقلیتی کمیشن کو بھی دہلی حکومت کو تبلیغی جماعت کو لے کر الگ سے اعداد وشمار جاری کرنے نے کو لے کر نوٹس جاری کرنا پڑا ۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بی جے پی صدر جی پی نڈا کے علاوہ وہ کیرالہ اور تلنگانہ جیسی ریاستوں کے وزرائے اعلی نے بھی کورونا وائرس پھیلنے کے لئے کسی کو ذمہ دار قرار نہ دینے اور فرقہ وارانہ بیان نہ دینے کی اپیل کی ۔ اس نفرت انگیزی کی وجہ سے مسلم طبقہ کے لوگوں کی نہ صرف دل آزاری ہوئی ہے ، بلکہ کئی ایسے واقعات بھی سامنے آئے ، جن میں میں مسلم سماج کے لوگوں پر حملہ کیا گیا  اور ان کو اشیا فروخت کرنے اور خریدنے سے روکا گیا ۔ دستور ہند کی دفعہ 21 کے تحت وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے دستوری حق سے محروم ہونا پڑا ہے ۔ جبکہ آرٹیکل 19 کے تحت آنے جانے کی آزادی کے حق کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔ اسی طرح آرٹیکل 14 کے تحت تمام ہندوستانیوں کو برابری کے حقوق حاصل ہیں ۔ لیکن وزارت داخلہ مسلم طبقے کو برابری کا حق دلانے میں کامیاب نہیں ہوئی ۔


آرٹیکل 21 اور 14 کے ساتھ ساتھ 19 کو بنیاد بناتے ہوئے عرضی میں عدالت سے درخواست کی گئی کہ وہ میڈیا کو نفرت انگیزی روکنے کو لے کر حکم جاری کرے ۔ کیونکہ سپریم کورٹ کے ذریعے 31 مارچ کو جو ہدایات میڈیا کو جاری کی گئی تھیں ، ان کی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔ اسی طرح سے وزارت اطلاعات و نشریات  کی جانب سے آٹھ مارچ کو جو گائیڈ لائن جاری کی گئی تھی ، اس کی مخالفت کی گئی ہے ۔ غور طلب ہے کہ اس سے قبل جمعیت علمائے ہند بھی اس قسم کی ایک عرضی پہلے ہی سپریم کورٹ میں داخل کر چکی ہے ، جس پر دو ہفتے بعد سماعت ہونی ہے ۔

First published: Apr 16, 2020 09:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading