ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی فساد معاملہ میں متاثرین کیلئے انصاف کی لڑائی لڑے گی پیس پارٹی

ڈاکٹر ایوب نے ​​کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے ختم کرنے کے لئے دہلی میں فساد کرایا گیا ۔ پیس پارٹی جوڈیشیل انکوائری کے ذریعہ تمام لوگوں کو انصاف دلانے اور انہیں معاوضہ دلانے کی لڑائی لڑے گی ۔

  • Share this:
دہلی فساد معاملہ میں متاثرین کیلئے انصاف کی لڑائی لڑے گی پیس پارٹی
دہلی فساد معاملہ میں متاثرین کیلئے انصاف کی لڑائی لڑے گی پیس پارٹی

دہلی میں فساد کو لے کر دہلی پولیس انتظامیہ اور سیکورٹی اہلکاروں پر پہلے سوال اٹھتے رہے ہیں لیکن اس معاملہ میں پیس پارٹی آف انڈیا قانونی چارہ جوئی کرنے جارہی ہے ۔ انتظامیہ اور سیکورٹی اہلکاروں اور فساد بھڑکانے کیلئے اشتعال انگیزی کرنے والوں کے خلاف پیس پارٹی کے صدر ڈاکٹر محمد ایوب نے سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔


پیس پارٹی کے صدر ڈاکٹر محمد ایوب نے نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتنا وقت گزر جانے کے بعد یہ امید ختم ہوگئی ہے کہ متاثرین کو انصاف ملے گا اور نہ یہ حکومت انصاف کی سمت میں پیش رفت کر رہی ہے ۔ صرف وہ لوگ گرفتار ہوئے ہیں ، جنہوں نے ہنگامہ آرائی نہیں کی ۔  جن لوگوں نے لوگوں کو مارا ہے ، ان کی ابھی نہ تو گرفتاری ہوئی ہے نہ ہی ان لوگوں سے تفتیش کی جارہی ہے ، بلکہ جن لوگوں نے فساد بھڑکایا اور دہلی پولیس کے وہی لوگ جس نے لوگوں کو گولیاں ماری اور فساد میں شامل رہی ، انکوائری کر رہے ہیں اس طرح سے کبھی انصاف نہیں ہوسکتا ۔


ڈاکٹر ایوب نے ​​کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے ختم کرنے کے لئے دہلی میں فساد کرایا گیا ۔ پیس پارٹی جوڈیشیل انکوائری کے ذریعہ تمام لوگوں کو انصاف دلانے اور انہیں معاوضہ دلانے کی لڑائی لڑے گی ۔ ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ ایک مخصوص طبقہ کے لوگوں کو ایک کروڑ اور دوسرے لوگوں کو  5 لاکھ کا معاوضہ دیا جارہا ہے ، مرکز اور دہلی حکومت دونوں اس فساد کے معاملہ میں ناکام ہوچکی ہیں ۔ ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ ہم نے ایک ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیا ہے ، جس کے ذریعہ سے لوگ ہم تک اپنی بات پہنچا سکتے ہیں ۔ شواہد اور ویڈیو اور تمام ڈاکومنٹ جمع کراسکتے ہیں۔ اس موقع پر عید گاہ مصطفی آباد میں چل رہے راحت کیمپ میں پیس پارٹی کے ذریعہ ایک میڈیکل کیمپ لگایا گیا ، جس میں فساد متاثرین کو مفت علاج کی سہولت دی گئی اور دوائیاں تقسیم کی گئیں ۔

First published: Mar 17, 2020 10:56 PM IST