ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Pegasus Spy Case: سماعت منگل تک ملتوی، مرکز کو جاری نہیں کی گئی کوئی نوٹس

چیف جسٹس این وی رمن اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل ڈویژن بنچ نے تمام درخواست گزاروں کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد انہیں درخواستوں کی کاپی مرکزی حکومت کے حوالے کرنے کی ہدایت دی۔

  • Share this:

عدالت عظمیٰ نے جمعرات کو پیگاسس جاسوسی کیس میں درخواستوں کی کاپیاں مرکزی حکومت کو حوالے کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اگر میڈیا رپورٹس سچ ہیں تو الزامات سنگین ہیں۔عدالت نے معاملہ کی سماعت اگلے منگل کے لیے مقرر کی لیکن مرکزی حکومت کو کوئی باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیا۔چیف جسٹس این وی رمن اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل ڈویژن بنچ نے تمام درخواست گزاروں کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد انہیں درخواستوں کی کاپی مرکزی حکومت کے حوالے کرنے کی ہدایت دی۔


سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ڈویژن بنچ مرکزی حکومت کی موجودگی کے بغیر معاملے کی مزید سماعت نہیں کرسکتی۔ تاہم عدالت نے ابھی تک اس معاملے میں باضابطہ نوٹس جاری نہیں کیا ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ صحافیوں ، اپوزیشن رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کی جاسوسی کا معاملہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میڈیا رپورٹس درست ہیں تو یہ الزام انتہائی سنگین ہے۔



سینئر وکیل کپل سبل نے کہا ۔۔ 'میں یہ کہنا بھی نہیں چاہتا کہ دلائل میں کچھ نہیں ہے۔ دائر کی گئی کچھ درخواستیں مؤثر نہیں ہیں اور کچھ کا دعویٰ ہے کہ ان کے فون ہیک ہو چکے ہیں۔ لیکن انہوں نے فوجداری شکایت درج کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس پر سبل نے کہا ، 'ہماری کوئی براہ راست رسائی نہیں ہے۔' انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی کے ذریعے پرائیویسی پر حملہ ہے۔ اس کے لیے صرف ایک فون کی ضرورت ہوتی ہے اور ہماری انفرادی حرکات کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ قومی انٹرنیٹ سیکورٹی کا بھی سوال ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا ، 'ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے لیکن ایڈیٹرز گلڈ کے علاوہ تمام درخواستیں اخبار پر مبنی ہیں۔ انکوائری کا حکم دینے کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد نظر نہیں آتی۔ یہ مسئلہ 2019 کے بعد اچانک دوبارہ گرم ہو گیا ہے۔ اس کی وجوہات جاننے کی ضرورت ہے۔


سی جے آئی نے پوچھا کہ آپ نے قانونی طور پر کیوں درج نہیں کرائی ایف آئی آر؟

سبل نے کہا کہ پارلیمنٹ میں رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے سوال پر ، وزیر نے اتفاق کیا ہے کہ ہندوستان میں 121 افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ مزید حقیقت تب معلوم ہوگی جب عدالت حکومت سے تفصیلات طلب کریگی۔ جس پر چیف جسٹس نے پوچھا۔ 'ہمارے سوال کا جواب نہیں دیا گیا کہ یہ معاملہ 2 سال بعد کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟' تب سبل نے کہا- 'سٹیزن لیب نے نئے انکشافات کیے ہیں۔' سبل نے کہا ، 'ابھی معلوم ہوا کہ عدالت کے رجسٹرار اور ایک سابق جج کا نمبر بھی نشانے پر تھا۔ یہ اسپائی ویئر موبائل کا کیمرا اور مائک آن کرکے تمام ذاتی سرگرمیاں لیک کرتا ہے۔

دریں اثنا سینئر ایڈوکیٹ سی یو سنگھ نے کہا کہ جولائی میں فہرست سامنے آئی کہ کس کی جاسوسی کی گئی۔ سماعت کے دوران سینئر ایڈووکیٹ میناکشی اروڑا نے کہا کہ فرانسیسی ادارے اور کینیڈین لیب کی کوششوں سے ایک نیا انکشاف ہوا ہے۔ لوگوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اسے ہندوستان میں کس نے استعمال کیا اور کس پر ، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ اگر آپ کو یقین ہے کہ آپ کے فون کی جاسوسی کی گئی تھی تو آپ نے قانونی طور پر ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی؟

بینچ کے سامنے اے ڈی آر کے جگدیپ چھوڑکر کے وکیل شیام دیوان نے دعویٰ کیا کہ چھاکر کے فون کی جاسوسی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فرانس اور امریکہ کی حکومتوں نے اسے سنجیدگی سے لیا ہے۔ ہم اسے نظر انداز بھی نہیں کر سکتے۔ دریں اثنا ، سینئر ایڈوکیٹ راکیش دیویدی نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں کم از کم 40 صحافیوں کی جاسوسی کی گئی ہے۔ کسی ایک شخص کے فون کو ٹیپ کرنے کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

دیویدی نے کہا ، 'ایک بیرونی کمپنی ملوث ہے۔ اگر حکومت کو اسپائی ویئر نہیں ملا تو کس نے کیا؟ ' سینئر ایڈوکیٹ اروند نے کہا کہ آئی ٹی ایکٹ کے سیکشن 43 کے تحت ہم معاوضہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ لیکن بغیر تفتیش کے کیسے پتہ چلے کہ کون ذمہ دار ہے۔ سماعت کے اختتام پر سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی کو نوٹس لینے کے لیے مرکز کی جانب سے پیش ہونا چاہیے ۔غیر ملکی کمپنیاں بھی اس معاملے میں ملوث ہیں اور یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Aug 05, 2021 02:56 PM IST