ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

گلبرگہ کے اس علاقے کے باشندوں کو ملی دہشت سے آزادی، اب لے رہے ہیں کھلے آسمان کے تلے سانس

مومن پورہ کووڈ کنٹنمنٹ زون سے آزاد ہوگیا ہے۔ اب یہاں کے باشندوں خود کو ہلکا محسوس کر رہے ہیں۔ دوماہ سے یہاں ایمرجنسی جیسی صورتحال تھی۔ 10 اپریل کو یہاں کورونا کا پہلا کیس درج کیا گیا تھا، جس کے بعد یہاں کورونا کی جیسی لڑی ہی شروع ہوگئی۔

  • Share this:
گلبرگہ کے اس علاقے کے باشندوں کو ملی دہشت سے آزادی، اب لے رہے ہیں کھلے آسمان کے تلے سانس
گلبرگہ کے اس علاقے کے باشندوں کو ملی دہشت سے آزادی

گلبرگہ: دو ماہ کے قید و بند میں رہنے کے بعد آزادی کیا ہوتی ہے، دوماہ تک گھٹ گھٹ کر دہشت کے ماحول میں رہ کر کھلے آسمان میں بے خوف سانس لینے کا مزہ کیا ہوتا ہے، یہ بات گلبرگہ کے محلے مومن پورہ کے باشندے بخوبی جانتے ہیں۔ اب مومن پورہ کووڈ کنٹنمنٹ زون سے آزاد ہوگیا ہے۔ اب یہاں کے باشندوں خود کو ہلکا محسوس کر رہے ہیں۔ دوماہ سے یہاں ایمرجنسی جیسی صورتحال تھی۔ 10 اپریل کو یہاں کورونا کا پہلا کیس درج کیا گیا تھا، جس کے بعد یہاں کورونا کی جیسی لڑی ہی شروع ہوگئی۔ جس کی وجہ سے مومن پورہ ر یاستی سطح پر سرخیوں میں آیا تھا۔ یکے بعد دیگرے یہاں جملہ 41 کیس سامنے آئے۔ جس میں تین اموات بھی درج کی گئی۔


یہاں پانچ سو سے زائد افراد کو پرائمری و سیکنڈری کانٹیکٹ کے شک میں کوارنٹائن کر دیا گیا تھا۔ 10 اپریل کے بعد سے ہی مومن پورہ کو پوری طرح سے سیل کر دیا گیا تھا، جیسے جیسے یہاں کیسوں میں اضافہ ہو رہا تھا، اتنے ہی یہاں سختیاں عائد کی جا رہی تھیں۔ چھوٹی چھوٹی گلیوں تک کو یہاں سیل کر دیا گیا تھا۔ عوام کا گھروں سے باہر نکلنا دو بھر ہوگیا تھا۔ روز مرہ کی اشیاء کے حصول کیلئے بھی انھیں گھر سے باہر نکلنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ سبزی، دودھ، گوشت،انڈے، کرانہ سامان، دوائیوں حصول بھی ان کیلئے جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ کنٹنمنٹ زون قرار دینے کی وجہ سے علاقے میں کسی بھی طرح کی دکان کو کھولنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی ضلع انتظامیہ کی جانب سے یہاں کے باشندوں کو کسی طرح کی کوئی سہولت فراہم کی جا رہی تھی۔


مومن پورہ کووڈ کنٹنمنٹ زون سے آزاد ہوگیا ہے۔ دو ماہ سے یہاں ایمرجنسی جیسی صورتحال تھی۔
مومن پورہ کووڈ کنٹنمنٹ زون سے آزاد ہوگیا ہے۔ دو ماہ سے یہاں ایمرجنسی جیسی صورتحال تھی۔


کورونا کے بڑھتے کیسوں کے پیش نظر مومن پورہ کا نام گویا دہشت کی علامت بن گیا تھا۔ گلبرگہ کے دیگر باشندے مومن پورہ کے مکینوں سے ملنے تک کیلئے کترا رہے تھے۔ مومن پورہ کو گلبرگہ میں کورونا کا ایک سنٹر مانا جا رہا تھا۔ 10 اپریل کے بعد سے یہاں تقریباً ہر روز سرکاری ایمبولنس آتی تھی اور کچھ لوگوں کو شک کی بنیاد پر ہاسپٹل لےجایا جاتا تھا۔ سرکاری ایمبولنس کی آواز ا سے یہاں کے باشندے نفسیاتی دہشت میں مبتلا ہو گئے تھے۔ عدم اعتماد کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ پڑوسی تک ایک دوسرے کو کورونا کے شک کی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ ایک دوسرے سے ملنے سے کترا رہے تھے۔ مومن پورہ میں کورونا کے بڑھتے کیسوں نے ضلع انتظامیہ بھی فکر مند تھا، جس کے لئے یہاں ماس ٹیسٹنگ، رینڈم سیمپلنگ کرانے کا منصوبہ بنایا گیا۔

محلے کے ایک دینی مدرسے میں ایک کووڈ کلینک قائم کیا گیا۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ کوئی اپنا ٹسٹ کرانے کیلئے تیار نہیں تھا۔ ٹسٹ کرانے پر انھیں پوزیٹیو رزلٹ آنے کا اندیشہ تھا، جس کے بعد آئسو لیٹڈ اور تنہائی اور اسکے مراحل کے خوف سے ان کے رونگھٹے کھڑے ہونے لگے تھے۔ لوگ اتنے خوفزدہ تھے کہ کووڈ ٹسٹ کا نام سنتے ہی گھروں کو مقفل کرکے کہیں چھپ رہے تھے۔ بالاخر محلے کے ذمہ داروں نے مقامی باشندوں کو سمجھا یا تب جا کر رضامند ہوئے۔ یہاں 475 کووڈ ٹسٹ کئے گئے۔ جس میں تمام کے نتائج منفی آئے۔ جس کے بعد ہی یہاں کے عوام میں خود اعتمادی لوٹ آئی۔ اب مومن پورہ کے عوام پوری طرح سے آزاد ہیں۔ بس انھیں اب انتظار ہے کہ کب مساجد کھلیں گے اور کب یہاں کی لذیذ تہاری کی ہوٹلیں کھلیں گی۔
First published: Jun 05, 2020 01:39 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading