உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اترپردیش اسمبلی انتخابات 2022: سیاسی اقتدار کی تبدیلی کے خواہاں ہیں لوگ؟ اقلیتی تنظیموں کا نظریہ

    بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی پارٹی کے اہم عہدیداروں، عوامی نمائندوں اور اراکین کے ساتھ میٹنگوں کو مشن 2022 کے لئے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

    بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی پارٹی کے اہم عہدیداروں، عوامی نمائندوں اور اراکین کے ساتھ میٹنگوں کو مشن 2022 کے لئے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

    اتر پردیش کی راجدھانی میں سیاسی سرگرمیاں تیز تر ہوتی جارہی ہیں۔ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی پارٹی کے اہم عہدیداروں، عوامی نمائندوں اور اراکین کے ساتھ میٹنگوں کو مشن 2022 کے لئے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

    • Share this:
    لکھنئو: اتر پردیش کی راجدھانی میں سیاسی سرگرمیاں تیز تر ہوتی جارہی ہیں۔ بی جے پی کے قومی صدر  جے پی نڈا اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی پارٹی کے اہم عہدیداروں، عوامی نمائندوں اور اراکین کے ساتھ میٹنگوں کو مشن 2022  کے لئے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران بر سر اقتدار جماعت نے اپنے زمینی کارکنان اور تنظیم کاروں کے ساتھ جتنی میٹنگیں کی ہیں، ان سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر بی جے پی نہایت سنجیدہ ہے اور وہ کسی بھی سطح  اور محاذ پر کوئی گنجائش نہیں چھوڑنا چاہتی ہے۔

    حزبِ اختلاف کے اپنے دعوے دلیلیں اور نظریاتی منصوبے ہیں، لیکن سیاسی پنگھٹ کی ڈگر اس بار اتنی بھی آسان نہیں کہ صرف اپنے ماضی کی کامیابیوں اور بی جے پی کی حالیہ ناکامی کے بکھان سے حاصل ہو سکے۔ بات اگر عوامی تاثر کے حوالے سے کی جائے بالخصوس اس بڑے ووٹ بنک کے حوالے سے جو لوگوں کو اقتدار تک پہنچا کر خود حاشیے پر پڑا رہتا ہے، تو منظر نامہ مختلف نظر آتا ہے۔ مذہبی سیاست و منافرت سے بے نیاز عام آدمی  بہتر زندگی اور اچھے دنوں کی تلاش میں اب تبدیلی کا خواہاں نظر آتا ہے اور اگر بات نمائندہ اقلیتی تنظیموں کے سربراہوں اورلوگوں کے حوالے سے کی جائے تو یہ احساس مزید شدید ہوجاتا ہے۔ کئی اہم سماجی  ملی اور مذہبی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے معروف معالج و دانشور ڈاکٹر سلمان خالد کہتے ہیں کہ اقلیتوں میں اقتدار کی تبدیلی کا نظریہ اس لئے زیادہ شدید نظر آتا ہے کیونکہ گزشتہ کچھ برسوں میں سب سے زیادہ شدت نفرت، جبر، تشدد ظلم اور تعصب کا شکار بھی ملک کی اقلیتیں با الخصوص سب سے بڑی اقلیت رہی ہے۔

    گزشتہ دو ماہ کے دوران بر سر اقتدار جماعت نے اپنے زمینی کارکنان اور تنظیم کاروں کے ساتھ جتنی میٹنگیں کی ہیں، ان سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر بی جے پی نہایت سنجیدہ ہے اور وہ کسی بھی سطح  اور محاذ پر کوئی گنجائش نہیں چھوڑنا چاہتی ہے۔
    گزشتہ دو ماہ کے دوران بر سر اقتدار جماعت نے اپنے زمینی کارکنان اور تنظیم کاروں کے ساتھ جتنی میٹنگیں کی ہیں، ان سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر بی جے پی نہایت سنجیدہ ہے اور وہ کسی بھی سطح  اور محاذ پر کوئی گنجائش نہیں چھوڑنا چاہتی ہے۔


    تعلیمی نظام سے لے کر اقتصادی و معاشی نظام کی تباہی اور پھر مذہبی بنیادوں پر جتنے مصائب و مسائل مسلمانوں کی تقدیر  بنے ہیں، اس کی کوئی دوسری نظیر نہیں۔ ڈاکٹر سلمان خالد یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بڑا اقلیتی ووٹ بنک اپنی تباہی و بربادی کے پیش نظر اپنے جذبات و احساس کا اظہار کر رہا ہے۔ تاہم ابھی اسے یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ کس سیاسی جماعت کا تعاون کرنا ہے اور کیوں کرنا ہے۔ گزشتہ الیکشن میں مسلمانوں کی کئی برادریاں ایسی تھیں، جنہوں نے بشمول لکھنئو مختلف علاقوں میں بی جے پی کو اپنے ووٹ سے غیر معمولی تعاون فراہم کیا تھا۔

    سلمان خالد جمعیۃ العلماء جیسی اہم تنظیم سے بھی وابستہ ہیں اور سنی مجلس عمل، مسلم مت داتا جاگروک سنگھ اور دینی کونسل  جیسی با اثر تنظیموں سے بھی منسلک ہیں اور عوامی رجحانات و تاثر کی بنیاد پر یہ واضح کرتے ہیں کہ اگر مسلم ووٹ بینک کی تقسیم کو یقینی بنانے میں بی جے پی کامیاب ہو جاتی ہے تو ایک بار پھر حزب اختلاف کی دشواریاں شکست میں تبدیل ہوسکتی ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کورونا  کی تباہی، مہنگائی، فسادات، جرائم اور مذہبی بنیادوں پر تعصب یہ ایسے موضوعات اور مسائل ہیں، جن کی پردہ پوشی ممکن نہیں۔ تاہم یقین سے ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مختلف اہم سیاسی جماعتوں کے اپنے الگ منصوبے اور خاکے ہیں اور ان میں لوگ اپنے اپنے طور پر رنگ بھرنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن سلمان خالد کہتے ہیں کہ فتح کی آرزو مند اور اقتدار کے خواب دیکھنے والی جماعتوں کو ان چھوٹی چھوٹی سیاسی تنظیموں اور جماعتوں کو بھی نظر میں رکھنا پڑے گا جو خود بھلے ہی نہ جیت سکیں، لیکن کسی مخصوص سیاسی جماعت کو ہرانے اور سیاسی توازن بگاڑنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: