உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جھارکھنڈ میں عبادت گاہوں کو کھولنے کی اب تک نہیں ملی  اجازت، علمائے کرام میں ناراضگی

    جھارکھنڈ میں عبادت گاہوں کو کھولنے کی اب تک نہیں ملی  اجازت، علمائے کرام میں ناراضگی

    جھارکھنڈ میں عبادت گاہوں کو کھولنے کی اب تک نہیں ملی  اجازت، علمائے کرام میں ناراضگی

    ریاستی حکومت کے ذریعہ اس بار پانچ ماہ سے زائد عرصہ سے بند سیلون اور بیوٹی پارلر اور شاپنگ مال کو کھولنے کے ساتھ ساتھ ریاست کے اندر سواری گاڑیوں کو چلانے کی اجازت دی گئی ہے لیکن مذہبی مقامات کو کھولنے کے موضوع پر حکومت خاموش ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    رانچی: جھارکھنڈ میں کورونا مثبت کے روزانہ ایک ہزار سے زائد نئے معاملے سامنے آرہے ہیں۔ کورونا کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر ریاستی حکومت نے لاک ڈاؤن کی میعاد میں اضافہ کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کی تاریخ  بڑھا کر 30 ستمبر تک کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ریاستی حکومت کے ذریعہ اس بار پانچ ماہ سے زائد عرصہ سے بند سیلون اور بیوٹی پارلر اور شاپنگ مال کو کھولنے کے ساتھ ساتھ ریاست کے اندر سواری گاڑیوں کو چلانے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن مذہبی مقامات کو کھولنے کے موضوع پر حکومت خاموش ہے۔ حکومت کے اس فیصلے پر ریاست کے علمائے کرام نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

    جھارکھنڈ میں عبادت گاہوں کو کھولنے کی اب تک نہیں ملی  اجازت
    جھارکھنڈ میں عبادت گاہوں کو کھولنے کی اب تک نہیں ملی  اجازت


    رانچی کے اقرأ مسجد کے خطیب و مرکزی مجلس علماء جھارکھنڈ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عبید اللہ قاسمی نے حکومت کے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن میں چھوٹ دیتے ہوئے تجارتی مراکز کھولنے اور ٹرانسپورٹیشن چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی شاپنگ مال، سیلون اور بیوٹی پارلر کے علاوہ شراب تک کی دوکانیں کھولنے کی اجازت پہلے ہی دی گئیں، لیکن عبادت گاہوں کو ابھی بھی بند رکھنے کے حکومت کے فیصلے حیران کن ہیں۔ انہوں نے عوام سے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کرنے کی اپیل کی ہے۔ وہیں دارالسلام نامی تنظیم کے سربراہ محمد طلحہ ندوی نے کہا کہ ریاست میں کورونا کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر عوام کو اس وبا کے ساتھ زندگی گذارنے کے طریقے پر عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے عبارت گاہوں کو کھولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب شاپنگ مال، تجارتی مراکز اور سواری گاڑیوں کو چلانے کی اجازت دے دی گئی تو عبادت گاہوں کو بند رکھنے کا فیصلہ سمجھ سے پرے ہے۔

    طلحہ ندوی نے کہا کہ مساجد بند رہنے کی وجہ کر مصلیان کو عبادت کرنے میں پریشانی ہو رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے گذارش کی کہ ایک دو دنوں کے اندر مساجد کو کھولنے کی اجازت دے دیں۔
    طلحہ ندوی نے کہا کہ مساجد بند رہنے کی وجہ کر مصلیان کو عبادت کرنے میں پریشانی ہو رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے گذارش کی کہ ایک دو دنوں کے اندر مساجد کو کھولنے کی اجازت دے دیں۔


    طلحہ ندوی نے کہا کہ مساجد بند رہنے کی وجہ کر مصلیان کو عبادت کرنے میں پریشانی ہو رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے گذارش کی کہ ایک دو دنوں کے اندر مساجد کو کھولنے کی اجازت دے دیں۔ رانچی کے شہر قاضی حاجی مسعود فریدی نے کہا کہ شراب کی دکانوں کے ساتھ ساتھ تمام ضروری اشیاء کی دکانیں سوشل ڈسٹنسنگ کے اصولوں اور حکومت کے احکامات کے مطابق کھولے جارہے ہیں تو عبادت گاہوں کو بھی کھولنے کی اجازت ملنی چاہیے۔ مسعود فریدی نے واضح کیا کہ مذہبی مقامات کے بند رہنے سے ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سمیت تمام مذاہب کے لوگ اپنے اپنے عبادت گاہوں میں عبادت کرنے سے محروم ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اس تعلق سے جلد سے جلد فیصلہ لینے کی اپیل کی تاکہ دعائوں کے اثر سے کورونا وبا کا خاتمہ کرنے میں مدد مل سکے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: