உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایودھیا میں بھومی پوجن کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل عرضی خارج، مداخلت کرنے سے انکار

    ایودھیا میں بھومی پوجن کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل عرضی خارج، مداخلت کرنے سے انکار

    ایودھیا میں بھومی پوجن کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل عرضی خارج، مداخلت کرنے سے انکار

    ایودھیا میں بھومی پوجن پر روک لگانے کا مطالبہ کرنے والی مفاد عامہ کی درخواست کو الہ آباد ہائی کورٹ نے خارج کردیا ہے۔ سماجی کارکن ساکیت گوکھلے نے آن لائن عرضی داخل کی تھی، جسے چیف جسٹس گووند ماتھر اور ایس ڈی سنگھ کی بنچ نے عرضی کو مسترد کردیا ہے۔

    • Share this:
    الہ آباد:۔ آئندہ پانچ اگست کو ایو دھیا میں ہونے والی بھومی پوجن کی تقریب کے درمیان حائل تمام قانونی رکاوٹیں اب دور ہوگئی ہیں۔ ایودھیا میں بھومی پوجن پر روک لگانے کا مطالبہ کرنے والی مفاد عامہ کی درخواست کو الہ آباد ہائی کورٹ نے خارج کر دیا ہے۔ یہی نہیں الہ آباد ہائی کورٹ نے بھومی پوجن تقریب کے معاملے میں کسی طرح کی مداخلت  سے بھی انکارکیا ہے۔ ممبئی سے تعلق  والے سماجی کارکن اور صحافی ساکیت گوکھلے کی عرضی پر  ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس  ایس ڈی سنگھ کی بنچ نے سماعت کی۔ ہائی کورٹ نےکہا کہ بھومی پوجن کو روکنے کو لے کر عرضی گزار نےجو بھی دلیلیں عدالت کے سامنے پیش کی ہیں، وہ سب محض  تصورات پر مبنی ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ عرضی میں کہی گئی باتوں کی کوئی بنیادی حیثیت نہیں ہے۔ عدالت نے یوپی حکومت سے امید ظاہرکی ہےکہ وہ بھومی پوجن کے دوران کووڈ-19 کی گائد لائن کی پوری طرح سے پابندی کرے گی۔ واضح رہےکہ ساکیت گوکھلےکی طرف سے داخل عرضی میں ہائی کورٹ سے ایودھیا میں ہونے والے بھومی پوجن پر فوری طور سے روک لگانے کی درخواست کی گئی تھی۔ عرضی گزار کا کہنا تھا کہ بھومی پوجن پروگرام سے کورونا وائرس کے مزید پھیلنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ عرضی  میں اس بات کی بھی  دلیل دی گئی تھی کہ بھومی پوجن کی تقریب میں 300 افراد کے شامل ہونے کا اندازہ ہے۔ ایک جگہ پر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے سے کورونا وائرس پھیلنے کا  اندیشہ بڑھ جائےگا۔ ساتھ ہی  اتنے سارے  افراد کا ایک  مخصوص مقام پرجمع ہونا کووڈ-19 کے ضوابط کی سخت خلاف ورزی ہے۔

    ممبئی سے تعلق  والے سماجی کارکن اور صحافی ساکیت گوکھلے کی عرضی پر  ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس  ایس ڈی سنگھ کی بنچ نے سماعت کی۔
    ممبئی سے تعلق والے سماجی کارکن اور صحافی ساکیت گوکھلے کی عرضی پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس ایس ڈی سنگھ کی بنچ نے سماعت کی۔


    عرضی میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ وائرس  پھیلنے کے خطرات کو بنیاد بنا کر ہی عید الاضحیٰ کی اجتماعی نمازکی اجازت نہیں دی گئی  ہے۔ ایسے میں بھومی پوجن جیسے پُرہجوم تقریب کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟  عرضی گزارکی طرف سے یہ بھی دلیل دی گئی ہے  کہ کووڈ-19 کے حوالے سے مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کردہ گائڈ لائن میں ریاستی حکومت  اپنی طرف سےکسی طرح کی چھوٹ  نہیں دے سکتی۔ عرضی گزار کی طرف سے تمام دلیلیں سننے کے بعد عدالت نے  اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کرتے ہوئے عرضی خارج کر دی ہے۔

    الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل عرضی میں رام مندر نرمان ٹرسٹ کے علاوہ مرکزی حکومت کو بھی فریق بنایا گیا تھا۔ دریں اثناء رام مندر نرمان ٹرسٹ کے سینئر رکن واسو دیوانند سرسوتی نے کہا ہےکہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے بھومی پوجن پانچ اگست کو اپنے طے شدہ پروگرام کے تحت ہی ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ بھومی پوجن کی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سمیت رام مندر تحریک سے وابستہ اہم لیڈران شرکت کریں گے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: