உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    SpiceJet Flights: مسلسل آرہی خرابی کے بعد اسپائس جیٹ کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل، فلائٹ آپریشن روکنے کا مطالبہ

    Delhi HC On SpiceJet: دہلی ہائی کورٹ نے عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ یہ موضوع حکومت کا ہے۔ عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتا ہے۔

    Delhi HC On SpiceJet: دہلی ہائی کورٹ نے عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ یہ موضوع حکومت کا ہے۔ عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتا ہے۔

    Delhi HC On SpiceJet: دہلی ہائی کورٹ نے عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ یہ موضوع حکومت کا ہے۔ عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتا ہے۔

    • Share this:
      SpiceJet Flights Issue: پرائیویٹ طیارہ کمپنی اسپائس جیٹ (SpiceJet) کی مشکلات کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں۔ پہلے اسپائس جیٹ کے طیاروں میں تکنیکی خرابی اور پھر اس کے چیئرمین کے خلاف مجرمانہ جانچ کا معاملہ ابھی پوری طرح سے ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ اب اس کے آپریٹنگ کو لے کر عدالت میں ایک عرضی داخل کی گئی ہے۔

      اسپائس جیٹ کے طیاروں میں مسلسل خرابی کے معاملے سامنے آنے کے بعد دہلی ہائی کورٹ (Delhi High Court) میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ تاہم دہلی ہائی کورٹ نے عرضی پر سماعت سے انکار کردیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ موضوع حکومت کا ہے، ہائی کورٹ اس میں مداخلت نہیں کر سکتا ہے۔

      واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ میں اسپائس جیٹ کی فلائٹوں کی پروازوں کو روکنے کے لئے عوامی مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے۔ عرضی میں حال ہی میں اسپائس جیٹ ایئر لائن کی فلائٹوں میں آئی خرابی کے حادثات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ مفاد عامہ کی عرضی وکیل راہل بھاردواج نے دائر کی تھی۔

      عرضی میں کیا گیا یہ مطالبہ

      وکیل راہل بھاردواج (Advocate Rahul Bhardwaj) کے ذریعہ دائر کی گئی مفاد عامہ کی عرضی (PIL) میں حادثات کی جانچ کرنے کے لئے ایک کمیشن بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، جو یہ جانچ کرے کہ اسپائس جیٹ کی آپریٹنگ بہتر طریقے سے مینیج کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پی آئی ایل میں کہا گیا ہے کہ وہ اسپائس جیٹ کے چیئرمین کے خلاف مجرمانہ  تحقیقات بھی چل رہی ہے۔

      جانکاری کے مطابق، گزشتہ ڈھائی ماہ میں 16 فلائٹس میں تکنیکی خرابی کے حادثات سامنے آچکی ہیں۔ ان میں سے کئی طیاروں کی ایمرجنسی لینڈنگ کرانی پڑی تو کئی لینڈنگ کے بعد پرواز ہی نہیں بھرسکے۔ ان میں سب سے زیادہ پریشانی اسپائس جیٹ کے طیاروں میں درج کی گئی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: