ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاہین باغ میں جاری احتجاج کے خلاف اب سپریم کورٹ میں عرضی داخل ، کیا گیا یہ مطالبہ

وکیل امت ساہنی نے سپریم کورٹ میں ایک خصوصی عرضی داخل کرکے شاہین باغ کی صورتحال کا جائزہ لینے کی اپیل کی ہے۔

  • Share this:
شاہین باغ میں جاری احتجاج کے خلاف اب سپریم کورٹ میں عرضی داخل ، کیا گیا یہ مطالبہ
شاہین باغ میں احتجاج کر رہے مظاہرین

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ سے شاہین باغ میں خواتین سراپا احتجاج ہیں اور اس کی وجہ سے کلندی کنج شاہین باغ روڈ کا حصہ بند ہے ۔ اس راستے پر ٹریفک کو بحال کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔  درخواست میں کہا گیا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے 14 جنوری کو اس راستے پر ٹریفک کی رکاوٹوں کو دور کرنے سے متعلق عرضی پر فوری طور پر فیصلہ سنانے سے انکار کردیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ وہ احتجاج سے نمٹنے ، احتجاج کی جگہ یا ٹریفک کی پریشانیوں سے نمٹنے کے بارے میں براہ راست کوئی ہدایت نہیں دے گی ، کیونکہ یہ اصل صورتحال اور پولیس کی صوابدید پر منحصر ہے ۔


وکیل امت ساہنی نے سپریم کورٹ میں ایک خصوصی عرضی داخل کرکے شاہین باغ کی صورتحال کا جائزہ لینے کی اپیل کی ہے۔ ساہنی نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ شاہین باغ میں ہونے والے مظاہرے نے کئی دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے مظاہرے شروع کرنے کی ترغیب دی ہے اور اس کو جاری رہنے دینا بری روایت پیدا کرنا ہوگا ۔


شہریت ترمیمی قانون میں اصلاح کی ضرورت: نجیب


دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے شہریت ترمیمی قانون (سي اےاے) میں اصلاح کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت مسلمانوں کو بھی شہریت دینے کا انتظام کیا جائے یا سبھی مذاہب کے لوگوں کا نام ہٹا دیا جائے۔ نجیب جنگ آج جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طالب علموں کی تحریک کو حمایت دینے آج شام یہاں پہنچے اور اس دوران انہوں نے خطاب کے دوران کہا کہ اس قانون میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یا تو مسلمانوں کو اس میں شامل کرنا چاہئے یا سب کو ہٹا دینا چاہئے۔

جامعہ کے سابق وائس چانسلر نجیب جنگ نے کہا کہ اس قانون کو سب کو شامل کرنے والا بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں لاکھوں لوگ اس قانون کے خلاف سڑکوں پر مظاہرہ کر رہے ہیں اس لئے اسے ختم کرنے کے لئے حکومت کو اس میں شامل لوگوں سے بات چیت کرنی چاہئے۔ بات چیت ہونی چاہئے، تبھی کوئی حل نکلے گا۔ اگر ہم بات نہیں کریں گے تو حل کیسےنکلے گا؟ اس کے خلاف مخالفت کب تک جاری رہے گی؟ معیشت کو نقصان ہو رہا ہے، دکانیں بند ہیں، بسیں نہیں چل رہی ہیں۔
First published: Jan 21, 2020 12:02 AM IST