உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    LLB Student کا اغوا کرکے پروفیسر نے کی چھیڑخانی، چپراسی سے کال پر بولا- شہر سے باہر ہوں، پولیس کو دروازہ کھلوانے میں کرنی پڑی مشقت

    ایل ایل بی طالبہ کا اغوا کرکے پروفیسر نے کی چھیڑخانی

    ایل ایل بی طالبہ کا اغوا کرکے پروفیسر نے کی چھیڑخانی

    چھتیس گڑھ کے کانکیر میں ایک پروفیسر نے ایل ایل بی کی طالبہ کا اپنے سرکاری کوارٹر میں اغوا کرلیا۔ وہ طالبہ سے چھیڑ خانی کرنے لگا تو شور سن کر آس پاس کے لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی۔

    • Share this:
      کانکیر: چھتیس گڑھ کے کانکیر میں ایک پروفیسر نے ایل ایل بی کی طالبہ کا اپنے سرکاری کوارٹر میں اغوا کرلیا۔ وہ طالبہ سے چھیڑ خانی کرنے لگا تو شور سن کر آس پاس کے لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ اس درمیان کالج کا چپراسی پہنچا اور اس نے پروفیسر کے موبائل پر کال کیا، تو پروفیسر نے اس سے بولا کہ شہر کے باہر ہوں۔ تقریباً ایک گھنٹے کی مشقت کے بعد پولیس دروازہ کھلوا سکی۔ طالبہ کی شکایت پر پولیس نے پروفیسر کو گرفتار کرلیا ہے۔

      دراصل، کانکیر پی جی کالج میں نریندر ساہو پروفیسر ہے۔ وہ کالج کیمپس میں ہی بنے پی ڈبلیو ڈی کے کوارٹر میں رہتا ہے۔ جمعرات کو آس پاس کے لوگوں نے ان کے کوارٹر سے کسی خاتون کے چلانے کی آواز سنی۔ اطلاع ملنے پر ایس ڈی او پی چترا ورما، ٹی آئی شرد دوبے ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ کوارٹر کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ پولیس نے کئی بار دستک دی،لیکن پروفیسر نے دروازہ نہیں کھولا۔ پولیس کو دیکھ کر موقع پر لوگوں کی بھیڑ پہنچ گئی۔

      کافی کوشش کے بعد دروازہ نہیں کھلا تو ایس ڈی او پی نے اس کی اطلاع کالج انتظامیہ اور پرنسپل کو دی۔ اس کے بعد ایک چپراسی وہاں پہنچا اور اس نے پروفیسر کے موبائل نمبر پر کال کیا۔ اس پر پروفیسر نے اسے جواب دیا کہ وہ شہر سے باہر ہے۔ تقریباً ایک گھنٹے کی مشقت کے بعد پولیس نے دروازہ کھلوایا۔ اندر کمروں کی تلاشی لی تو وہاں ایک طالبہ مل گئی۔ پولیس نے اسے سکھی سینٹر بھجوا دیا، وہیں پروفیسر کو حراست میں لے کر تھانے آگئی۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      غلام نبی آزاد اور جی-23 کے کچھ اراکین سے مل سکتے ہیں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی

      طالبہ نے کہا- شام کو پڑھنے آئی تھی، تب سے یہی ہیں

      طالبہ نے ‘دینک بھاسکر‘ کو بتایا کہ پروفیسر نے اسے ایک دن پہلے ہی بدھ کی شام کو پڑھنے کے لئے بلایا تھا۔ اس کے بعد سے وہ یہیں کوارٹر میں ہے۔ اسے جانے بھی نہیں دیا جا رہا تھا۔ حالانکہ طالبہ نے اس سے زیادہ کچھ بھی بولنے سے انکار کردیا۔ وہیں پولیس کو دیئے گئے بیان کی بنیاد پر پروفیسر کے خلاف دیر شام ایف آئی آر درج کی گئی۔ اسے چھیڑ چھاڑ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ حالانکہ پروفیسر کا کہنا ہے کہ اس کی کوئی غلطی نہیں ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      LLB Student کا اغوا کرکے پروفیسر نے کی چھیڑخانی، چپراسی سے کال پر بولا- شہر سے باہر ہوں


      کیریئر بنانے شباب، شراب اور کباب کا مطالبہ کرتا


      لوگوں نے بتایا کہ لڑکی کی چیخنے کی آواز آرہی تھی۔ تبھی تیز آواز میں ساونڈ سسٹم بجنے لگا۔ خدشہ ہے کہ لڑکی کی آواز دبانے کے لئے پروفیسر نے ایسا کیا ہوگا۔ وہیں کالج طالبات کا الزام ہے کہ پروفیسر کیریئر برباد کرنے کی دھمکی دیتا تھا۔ پریکٹیکل میں نمبر دینے اور کیریئر سنوارنے کے نام پر طالبات سے غیر اخلاقی مطالبہ کرتا اور طالبات سے بھی پیسے اور شراب لانے کو کہتا تھا۔

      پروفیسر کی مدت کار کا تنازعہ سے گہرا ناطہ

      پروفیسر نریندر کمار ساہو 2017 سے کانکیر کالج میں پوسٹیڈ ہیں۔ تب سے مدت کار تنازعہ سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے خلاف طالبات سے نازیبا برتاو کا الزام لگتا رہا ہے۔ اس کو لے کر تنازعہ بھی ہوچکا ہے۔ وہیں کالج اسٹاف سے بھی تنازعہ کی بات سامنے آئی ہے۔ پروفیسر ہمیشہ پریکٹیکل اور جوابی پرچے کی جانچ میں نمبر کم دینے کی دھمکی دے کر ایسا مطالبہ کرتا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اب اسے کاپیاں چیک کرنے کے لئے نہیں دی جائیں گی۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: