سوشل میڈیا پروائرل'بینر'کی کیا ہے حقیقیت ۔ قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کا بڑا بیان

سوشل میڈیا پر ایک 'بینر' بڑی تیزی سے وائرل ہورہا ہے۔ اس بینر میں 'اردو کتاب میلہ' کی جگہ 'اردو کتا میلہ' لکھا ہے اور سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ اور اس طرح کے دوسرے بینرس این سی پی یو ایل نے کشمیر یونیورسٹی میں جاری کل ہند اردو کتاب میلے کی تشہیر کے لئے وادی کشمیر میں آویزاں کئے ہیں

Jun 16, 2019 08:32 PM IST | Updated on: Jun 16, 2019 08:43 PM IST
سوشل میڈیا پروائرل'بینر'کی کیا ہے حقیقیت ۔ قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کا بڑا بیان

سوشل میڈیا پروائرل 'بینر' کی تصویر۔(تصویر:فیس بک)۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے کشمیر یونیورسٹی میں جاری 23 ویں کل ہند اردو کتاب میلے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے 'بینر' پر اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی کونسل کی طرف سے ایسا کوئی بینر آویزاں نہیں کیا گیا ہے۔ این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عقیل احمد نے یو این آئی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'قومی کونسل کی طرف سے ایسا کوئی بینر بنوایا یا آویزاں نہیں کیا گیا ہے۔ ہم نے خود جو بینرس بنوائے ہیں وہ کشمیر یونیورسٹی کے اندر اور سری نگر میں لگے ہوئے ہیں۔ سری نگر میں لگے بینرس میں سے کسی ایک میں بھی یہ لفظ نہیں ہے'۔

بتادیں کہ سوشل میڈیا پر ایک 'بینر' بڑی تیزی سے وائرل ہورہا ہے۔ اس بینر میں 'اردو کتاب میلہ' کی جگہ 'اردو کتا میلہ' لکھا ہے اور سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ اور اس طرح کے دوسرے بینرس این سی پی یو ایل نے کشمیر یونیورسٹی میں جاری کل ہند اردو کتاب میلے کی تشہیر کے لئے وادی کشمیر میں آویزاں کئے ہیں۔ این سی پی یو ایل کے ذرائع نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ ابھی تک کوئی شخص یہ بتانے کے لئے سامنے نہیں آیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل بینر کس جگہ پر آویزاں تھا۔

Loading...

تاہم ڈائریکٹر ڈاکٹر عقیل احمد نے بتایا کہ این سی پی یو ایل نے خود تو ایسا کوئی بینر پرنٹ یا آویزاں نہیں کیا ہے لیکن ہمارے وادی کشمیر میں 81 سنٹرس چل رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ کسی سنٹر نے از خود ہمارے بینر کی ہوبہو نقل بنانے کے دوران یہ غلطی کردی ہو۔ان کا کہنا تھا: 'کشمیر یونیورسٹی یا پورے سری نگر میں تو اس طرح کا کوئی بینر نہیں لگا ہے۔ ہمارے وادی میں 81 سنٹرس چلتے ہیں۔ ان سنٹرس میں سے بعض نے اپنے آپ بینرس پرنٹ کراکے مختلف جگہوں پر آویزاں کئے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ کتاب میلے کا رخ کریں۔ ہوسکتا ہے کہ کسی نے ہمارے بینر کی ہوبہو نقل بنانے کی کوشش کی ہو اور اس دوران کسی ایک بینر میں غلطی رہ گئی ہو'۔

این سی پی یو ایل کے ذرائع نے بتایا کہ 'سینکڑوں میں سے ایک بینر کی تصویر وائرل کرنا، وہ بھی اُس بینر جس کے بارے میں کوئی نہیں کہتا کہ وہ کہاں پر آویزاں ہے یا تھا، ہمارے ادارے کے خلاف پروپیگنڈہ ہے'۔ انہوں نے بتایا: 'جو بینرس ہم نے لگائے ہیں ان میں سے کسی میں بھی غلطی نہیں ہے۔ اب اگر کسی نے ذاتی طور پر بینرس بناکر لگائے ہیں تو اس کے لئے قومی کونسل ذمہ دار کیسے؟ ابھی ہماری نوٹس میں کوئی یہ نہیں لا رہا ہے کہ غلطی والا بینر کہاں لگا تھا۔

سوشل میڈیا پروائرل 'بینر' کی تصویر۔(تصویر:فیس بک)۔ سوشل میڈیا پروائرل 'بینر' کی تصویر۔(تصویر:فیس بک)۔

کوئی جان بوجھ کر بھی ایسی حرکت کرسکتا ہے۔ کسی نے ہمیں فون کیا اور بتایا کہ یہ بینر یونیورسٹی میں لگا ہوا ہے تو ہم نے جواب میں کہا کہ آپ مہربانی کرکے یونیورسٹی تشریف لاکر ہمیں بتائیں کہ کہاں پر لگا ہے'۔ان کا مزید کہنا تھا: 'ہمیں تو لگتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ اس کو پروپیگنڈہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اس بینر کو سوشل میڈیا پر پھیلا رہے ہیں وہ خود اردو پڑھ  پا رہے ہیں لیکن اپنے تبصرے انگریزی میں لکھتے ہیں'۔

قابل ذکر ہے کہ کشمیر یونیورسٹی کے علامہ اقبال لائبریری کے میدان میں 23 ویں کل ہند اردو کتاب میلہ کا آغاز 15 جون کو ہوا۔ 23 جون تک جاری رہنے والے اس اردو کتاب میلے میں کشمیری عوام غیر معمولی دلچسپی دکھا رہی ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں لوگوں بالخصوص طلبا نے مختلف سٹائلز کا دورہ کیا اور اپنی پسند کی کتابیں خریدیں۔

ماجد حیدری نامی ایک کشمیری صحافی نے 'اردو کتا میلہ' والے بینر کی تصویر ٹویٹر پر اپ لوڈ کرتے ہوئے انگریزی زبان میں لکھا: 'کشمیر یونیورسٹی کے لئے اردو کتا ہے۔ کشمیر یونیورسٹی 15 جون سے کل ہند اردو کتاب میلے کا اہتمام کررہا ہے۔ اردو کتاب کی جگہ اردو کتا لکھا گیا ہے۔ کتا کشمیر یونیورسٹی کی ٹیچرس ایسوسی ایشن کا نام ہے جو ہوسکتا ہے پروف ریڈنگ کرنا بھول گئی ہو'۔ سینئر صحافی یوسف جمیل نے اپنے ایک فیس بک کمنٹ میں لکھا: 'اردو زبان کو کبھی کبھی اس طرح بھی فروغ دیا جاتا ہے اور وہ بھی اس کے سرکاری ترقی دہندہ کی طرف سے۔ کتے اور کتاب میں فرق محسوس کرنا کوئی آسان کام نہیں'۔

 قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کی جانب سے بنوایاگیا 'بینر'۔(تصویر:سوشل میڈیا)۔ قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کی جانب سے بنوایاگیا 'بینر'۔(تصویر:سوشل میڈیا)۔

Loading...