உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہار میں 30 مقامات پر این آئی اے کے چھاپے، پھلواری شریف کیس میں PFI کا بھی ذکر

    فرقہ وارانہ تشدد پر اکسایا بھی ہے۔

    فرقہ وارانہ تشدد پر اکسایا بھی ہے۔

    پھلواری شریف کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) منیش کمار نے جلال الدین کی گرفتاری کے وقت کہا تھا کہ ان کے پی ایف آئی کے ساتھ روابط ہیں۔ جلال الدین پہلے اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (SIMI) سے وابستہ تھے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Bihar Sharif | Mumbai | Delhi | Gujarkheda | Lucknow
    • Share this:
      نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (National Investigation Agency) بہار میں 30 مقامات پر تلاشی لے رہی ہے۔ جو کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا (Popular Front of India) سے مبینہ طور پر منسلک دہشت گردی کے ایک مشتبہ ماڈیول کی تحقیقات کررہی ہے۔

      عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کیشرط پر نیوز 18 کو بتایا کہ اس تنظیم پر الزام ہے کہ وہ مارشل آرٹس کی تربیت کی آڑ میں ہتھیاروں کے تربیتی کیمپ چلا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جن علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں ان میں چھپرا، ارریہ، اورنگ آباد، کشن گنج، نالندہ اور جہان آباد شامل ہیں۔ بہار پولیس نے اس سال جولائی میں تین لوگوں کی گرفتاری کے ساتھ مبینہ دہشت گردی کے ماڈیول کا پردہ فاش کرنے کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے کیس این آئی اے کو سونپ دیا تھا۔

      جھارکھنڈ پولیس کے ایک ریٹائرڈ افسر محمد جلال الدین اور اطہر پرویز کو 13 جولائی کو پٹنہ کے پھلواری شریف علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ نورالدین جنگی کو بہار پولیس کی درخواست پر اتر پردیش اے ٹی ایس نے لکھنؤ سے تین دن بعد گرفتار کیا تھا۔ جن پر الزام عائد کیا گیا کہ ان کا تعلق پی ایف آئی سے ہے۔

      بہار پولیس نے کہا تھا کہ انھوں نے انگریزی میں لکھے ہوئے دو پمفلٹ برآمد کیے ہیں۔ ان میں سے ایک کا نام ’’انڈیا 2047: ٹوورڈ رول آف اسلامک انڈیا‘ اور دوسرے کا نام ’’پاپولر فرنٹ آف انڈیا، 20 فروری 2021‘ ہے۔ یوپی کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے کہا تھا کہ نورالدین نے پوچھ گچھ کے دوران اعتراف کیا کہ وہ 2015 میں پی ایف آئی دربھنگہ ضلع صدر کے رابطہ میں آیا تھا اور تب سے اس تنظیم سے وابستہ ہے۔

      پھلواری شریف کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) منیش کمار نے جلال الدین کی گرفتاری کے وقت کہا تھا کہ ان کے پی ایف آئی کے ساتھ روابط ہیں۔ جلال الدین پہلے اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (SIMI) سے وابستہ تھے۔ وہ مقامی لوگوں کو تلواروں اور چاقوؤں کا استعمال سکھا رہے تھے اور انہیں فرقہ وارانہ تشدد پر اکسایا بھی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      پاکستانی نیوز چینل چھپا رہے ہیں اس ملٹی نیشنل کمپنی میں ریپ کا واقعہ؟ ہانیہ عامر نے اٹھائی آواز
      یہ بھی پڑھیں: 

      Flipkart: اب فلپ کارٹ پر ہوٹل بکنگ سروس کا بھی آغاز، تہواروں کے موقع پر ملے گی سہولت

      تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ پٹنہ میں دوسری ریاستوں کے لوگ ان سے ملنے آتے تھے۔ وہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے بہار کی ہوٹلوں میں قیام کے دوران اپنا نام تبدیل کرتے تھے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: