مسلم پرسنل لا بورڈ کے خلاف پی آئی ایل داخل کرنے کا اعلان ، بورڈ پر لگائے یہ الزامات

ایڈوکیٹ رحمان نے دعویٰ کیا کہ بورڈ مسلمانوں کا نمائندہ ادارہ نہیں اور ملک کے 80 فیصد نیم خواندہ اور ناخواندہ مسلمانوں کو بورڈ کی موجودگی اور ان کی اپنی زندگی پر اس کے اثرات کا پتہ نہیں

May 04, 2017 07:33 PM IST | Updated on: May 04, 2017 07:33 PM IST
مسلم پرسنل لا بورڈ کے خلاف پی آئی ایل داخل کرنے کا اعلان ، بورڈ پر لگائے یہ الزامات

نئی دہلی : طلاق ثلاثہ، حلالہ اور کثرت ازدواج کے خلاف مرافعات کی سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتہ سماعت شروع ہونے سے عین پہلےسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ عبد الرحمان نے طلاق ثلاثہ پر کل آل انڈیا مسلم لابورڈ کے موقف کے خلاف مفاد عامہ کی ایک عرضی داخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہاں جاری ایک ریلیز میں انہوں نے کہا کہ کہ وہ پی آئی ایل داخل کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بورڈ کی طرف سے مسلمانان ہند کے عائلی معاملات کی نمائندگی پر مکالمہ کریں گے۔ایڈوکیٹ رحمان نے دعویٰ کیا کہ بورڈ مسلمانوں کا نمائندہ ادارہ نہیں اور ملک کے 80 فیصد نیم خواندہ اور ناخواندہ مسلمانوں کو بورڈ کی موجودگی اور ان کی اپنی زندگی پر اس کے اثرات کا پتہ نہیں۔

مسٹر رحمان نے بورڈ میں عالموں کے فقدان کا الزام بھی لگایا اور یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ عدالت عظمی میں بورڈ کا داخل کردہ جوابی حلف نامہ نہ صرف متضاد بیانات کا حامل ہے بلکہ ایک کتابی حوالہ بھی غلط دیا گیا ہے،کہا کہ بورڈ کے بانی مولانا منت اللہ رحمانی نےاز خود طلاق ثلاثہ کو خلاف شریعت قرار دیا تھااور کہا تھا کہ ’’مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک ہی دفعہ اور ایک ہی مرتبہ تین طلاق دینے سے پرہیز کریں کہ یہ گناہ کی بات ہے۔خدا اور رسول ناراض ہوگا او ر اس کی ناراضگی دنیا اور آخرت دونوں میں رسوائی کا سبب بنے گی‘‘۔

Loading...

Loading...