உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    PIL to Revadis: اس عرضی کے بعد 'ریوڑی کلچر' پر چھڑی بحث، گجرات انتخابات سے قبل گرمایا معاملہ

    سپریم کورٹ ۔ (فائل فوٹو)۔

    سپریم کورٹ ۔ (فائل فوٹو)۔

    PIL to Revadis: چیف جسٹس این وی رمن کی زیرصدارت بینچ کے سامنے مرکزی حکومت کا تازہ موقف اہمیت کا حامل بتایا جارہا ہے، کیونکہ اس سے قبل اس نے کہا تھا کہ 'ریوڑی کلچر' کے معاملہ کو الیکشن کمیشن کے ذریعہ نمٹائے جانے کی ضرورت ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi | New Delhi
    • Share this:
      نئی دہلی : انتخابات کے دوران 'ہینڈ آؤٹس' کا وعدہ کرنے والی سیاسی جماعتوں کے عمل کے خلاف داخل مفاد عامہ کی عرضی کی حمایت کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے بدھ کے روز سپریم کورٹ کو بتایا کہ "فری بی کی تقسیم مستقبل کی معاشی تباہی کا باعث بنتی ہے"۔ چیف جسٹس این وی رمن کی زیرصدارت بینچ کے سامنے مرکزی حکومت کا تازہ موقف اہمیت کا حامل بتایا جارہا ہے، کیونکہ اس سے قبل اس نے کہا تھا کہ 'ریوڑی کلچر' کے معاملہ کو الیکشن کمیشن کے ذریعہ نمٹائے جانے کی ضرورت ہے۔

      بنچ نے بدھ کے روز مرکزی حکومت، نیتی آیوگ، فائنانس کمیشن اور آر بی آئی سمیت سبھی اسٹیک ہولڈرز سے کہا کہ وہ انتخابات کے دوران فری بی کے وعدہ کے معاملہ پر غور و خوض کریں اور اس سے نمٹنے کیلئے تعمیری تجاویز پیش کریں ۔

      جانئے اس معاملہ میں اب تک کیا کیا ہوا؟

       
      22 جنوری: سپریم کورٹ میں ایک پی آئی ایل دائر کی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ انتخابات سے قبل عوامی فنڈز سے غیر معقول 'فری بی' دینے کا وعدہ یا تقسیم ووٹروں کو غیر ضروری طور پر متاثر کر سکتا ہے، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی جڑیں ہلا سکتا ہے اور لیول پلیئنگ فیلڈ کو ڈسٹرب کرسکتا ہے۔
      یہ عرضی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور ایڈوکیٹ اشونی کمار اپادھیائے کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے اس طرح کے فیصلے آئین کے آرٹیکل 14، 162، 266 (3) اور 282 کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس میں الیکشن کمیشن کو اس بات کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی تھی کہ وہ ایسی پارٹیوں کے انتخابی نشان کو ضبط کرے اور رجسٹریشن ختم کرے ، جس نے عوامی فنڈز سے غیر معقول مفت تقسیم کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔
      25 جنوری: سپریم کورٹ نے ایک نوٹس جاری کیا، جس میں الیکشن کمیشن کو ہدایت دینے کی مانگ کی گئی کہ وہ سیاسی جماعتوں کو "عوامی فنڈ سے غیر معقول فری بی" کا وعدہ کرنے یا تقسیم کرنے سے روکنے کیلئے گائیڈ لائن وضع کرے ۔
      جنوری - مارچ: اسمبلی انتخابات کیلئے اپنی مہم کے دوران بی جے پی نے کانگریس پر گزشتہ 70 سالوں میں ہندوستان کے لوگوں کو با اختیار بنانے کی بجائے ووٹ حاصل کرنے کے لئے "فری بی" کا الزام لگایا ۔ پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا نے کہا کہ نریندر مودی کی زیرقیادت حکومت نے اس دوران لوگوں کو " اجولا یوجنا اور آیوشمان بھارت جیسے اقدامات کے ذریعے خود کفیل اور بااختیار بننے میں مدد کی ہے۔" اے اے پی نے بھی پنجاب میں مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا۔
      9 اپریل: الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ انتخابات سے پہلے یا بعد میں فری بی کی پیشکش ایک سیاسی پارٹی کا پالیسی فیصلہ ہے اور وہ ریاستی پالیسیوں اور پارٹیوں کے ذریعہ لئے گئے فیصلوں کو ریگولیٹ نہیں کرسکتا ہے ۔
      جولائی: "دہلی ماڈل" کی نقل کرتے ہوئے اے اے پی کی زیر قیادت پنجاب حکومت نے اس مہینے سے ہر ایک کو 300 یونٹ مفت بجلی تقسیم کرنی شروع کر دی ہے ۔
      3 جولائی: کجریوال نے گجرات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے احمد آباد میں مفت بجلی کے معاملہ پر ٹاؤن ہال کا انعقاد کیا۔ لوگوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے پھر کہا کہ گجرات میں مفت بجلی ممکن تھی اور وہ جلد ہی ایک فارمولے کے ساتھ ریاست کا دورہ کریں گے کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو اسے کیسے فراہم کر سکتی ہے۔
      16 جولائی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ووٹ کیلئے فری بی دینے کے "ریوڑی کلچر" کے خلاف لوگوں کو خبردار کیا اور کہا کہ یہ ملک کی ترقی کے لئے "بہت خطرناک" ہے۔
      20 جولائی: بی جے پی کی گجرات یونٹ کے سربراہ سی آر پاٹل نے لوگوں کو متنبہ کیا کہ وہ فری بیز کے "ریوڑی کلچر" سے گمراہ نہ ہوں، کیونکہ یہ بالآخر ریاست اور ہندوستان کو سری لنکا میں تبدیل کر سکتا ہے، جو اس وقت شدید اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے۔
      3 اگست: مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ حکومت نے پی آئی ایل کی حمایت کی ہے ۔ اس طرح کے عوامی وعدے ووٹروں پر شدید منفی اثرات مرتب کرتے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: