ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

عازمین حج کی سرد مہری سے حج کمیٹی میں پسرا سناٹا، حج 2021 کے لئے نہیں لے رہے ہیں دلچسپی

مدھیہ پردیش سے امسال اب تک دوہزار عازمین حج نے بھی حج 2021 کے لئے فارم داخل نہیں کیا ہے۔ اگر گزشتہ سال سے امسال کے حج فارم داخل کرنے کا موازنہ کریں تو گزشتہ سال مدھیہ پردیش سے 28 دن میں تیرہ ہزار آٹھ عازمین حج نے حج فارم داخل کئے تھے۔ وہیں امسال ابھی تک 1723 عازمین حج نے فارم داخل کئے ہیں۔ حج فارم کم داخل کرنے کے پیچھے حج کمیٹی کے ذمہ دار اسے کورونا قہر کا خوف اور حج کا مہنگا ہونا بھی بتا رہے ہیں۔

  • Share this:
عازمین حج کی سرد مہری سے حج کمیٹی میں پسرا سناٹا، حج 2021 کے لئے نہیں لے رہے ہیں دلچسپی
عازمین حج کی سرد مہری سے حج کمیٹی میں پسرا سناٹا، حج 2021 کے لئے نہیں لے رہے ہیں دلچسپی

بھوپال: حج ایک مقدس فریضہ ہے اور ہر مومن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کم ازکم ایک بار اس مقدس فریضہ کو ادا کرلے۔ عازمین حج برسوں اللہ کے حضور اپنی حمد وثنا کرتے رہتے ہیں اور جب انہیں مقدس سفر کا موقع ملتا ہے، تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا ہے۔ کورونا قہر کے سبب حج 2020 میں جس طرح سے دوسرے ممالک کے عازمین حج کو مقدس سفر پرجانے کا موقع نہیں مل سکا، اسی طرح ہندوستان کے عازمین حج بھی مقدس سفر پر روانہ نہیں ہو سکے۔ حج 2021 کے لئے مرکزی حج کمیٹی نے اعلان کیا اور فارم بھرنے کے لئے ایک ماہ کا وقت عازمین حج کو دیا گیا، مگر مدھیہ پردیش ہی کیا ملک کی دوسری ریاستوں سے عازمین حج نے حج فارم بھرنے کو لے کر جس طرح سے اپنی عدم توجہی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس سے سبھی حیرت میں ہیں۔ حالانکہ حج فارم داخل کرنے کی تاریخ 10 دسمبر ہے، ابھی دو دن باقی ہے، مگر اس دو دن میں بھی عازمین حج فارم داخل کرنے کو لے کر کوئی حیرت انگیزکارنامہ انجام دیں گے ایسی امید کم ہی ہے۔


مدھیہ پردیش سے امسال اب تک دوہزار عازمین حج نے بھی حج 2021 کے لئے فارم داخل نہیں کیا ہے۔ اگر گزشتہ سال سے امسال کے حج فارم داخل کرنے کا موازنہ کریں تو گزشتہ سال مدھیہ پردیش سے 28 دن میں تیرہ ہزار آٹھ عازمین حج نے حج فارم داخل کئے تھے۔ وہیں امسال ابھی تک 1723 عازمین حج نے فارم داخل کئے ہیں۔ حج فارم کم داخل کرنے کے پیچھے حج کمیٹی کے ذمہ دار اسے کورونا قہر کا خوف اور حج کا مہنگا ہونا بھی بتا رہے ہیں۔


مدھیہ پردیش سے امسال اب تک دوہزار عازمین حج نے بھی حج 2021 کے لئے فارم داخل نہیں کیا ہے۔ اگر گزشتہ سال سے امسال کے حج فارم داخل کرنے کا موازنہ کریں تو گزشتہ سال مدھیہ پردیش سے 28 دن میں تیرہ ہزار آٹھ عازمین حج نے حج فارم داخل کئے تھے۔
مدھیہ پردیش سے امسال اب تک دوہزار عازمین حج نے بھی حج 2021 کے لئے فارم داخل نہیں کیا ہے۔ اگر گزشتہ سال سے امسال کے حج فارم داخل کرنے کا موازنہ کریں تو گزشتہ سال مدھیہ پردیش سے 28 دن میں تیرہ ہزار آٹھ عازمین حج نے حج فارم داخل کئے تھے۔


محبان بھارت کمیٹی کے قومی صدر جاوید بیگ کہتے ہیں کہ حج 2021 کو لے کر ابھی تک سعودی حکومت نے کوئی واضح ہدایت جاری نہیں کی ہے اور جو حج فارم جاری کیا گیا ہے، اس میں بھی اوپر لکھا ہوا کہ سعودی حکومت کے احکام پر سفر حج کا انحصار ہوگا۔ ایسے میں عازمین حج کا موقف بالکل واضح ہے۔ عازمین حج مقدس سفر پر تو جانا چاہتے ہیں، مگر حج کمیٹی کے ذریعہ کئے جا رہے ہیں، انتظامات سے وہ خوش نہیں ہیں اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ پہلے کی بہ نسبت سفر حج دو گنا مہنگا ہو گیا ہے۔ پہلے ایک انسان ڈھائی لاکھ میں آسانی سے حج کرکے عزیزیہ کیٹگری میں قیام کرکے مقدس سفر سے واپس آجاتا تھا، مگر اس بار جو خرچ بتایا جا رہا ہے وہ 3 لاکھ 70 ہزار سے 5 لاکھ 20 ہزار کے بیچ ہوگا۔ کورونا قہر میں عام انسان ہی نہیں سبھی کی زندگی اور بزنس متاثر ہوا ہے، ایسے میں دوگنا سفر حج پر جانا آسان ہے۔ حج کمیٹی نے فارم بھرنے کا سلسلہ اس لئے جاری کیا ہے تاکہ اس کا کاروبار جاری ہے۔ میں نے کاروبار اس لئے کہا ہے کیونکہ حج کمیٹی عازمین حج سے فارم پروسسنگ چارج کے نام پر فی عازمین حج 300 روپئے چارج لے رہی ہے، اگرکل کو حج نہیں ہوتا ہے تو عازمین حج کو یہ پیسے واپس نہیں ہونگے مگر حج کمیٹی کا تو کاروبار ہو جائے گا۔
وہیں مدھیہ پردیش اسٹیٹ حج کمیٹی کے سی ای او داؤد احمد خان کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے کہ امسال عازمین حج کے فارم داخل کرنے کی رفتاربہت سست ہے۔ امسال ابھی تک مدھیہ پردیش سے 1723 عازمین حج نے فارم داخل کئے ہیں۔ حج فارم میں کمی کی بڑی وجہ کورونا کی وبا بیماری مانی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ سے لوگ حج فارم داخل کرنے سے کترا رہے ہیں اور لوگوں کو اس بات پر یقین نہیں ہو رہا ہے کہ وبائی بیماری میں حج ہوگا تو ہندوستانی کے عازمین حج کو سفر حج پر جانے کا موقع ملےگا بھی کی نہیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جو خرچ بتایا گیا ہے وہ تین لاکھ 70 ہزار سے پانچ بیس ہزار کے بیچ ہے۔ عموماً اس سے پہلے ڈھائی لاکھ روپئے میں 2019 تک حج ہو جایا کرتا تھا۔ لوگ اسی کے مطابق اپنی تیاریاں کرتے تھے۔ اب نیا جو سلسلہ ہے ایسے میں لوگوں کی تیاریاں نہیں ہوں گی یہ بھی کم فارم داخل کرنے کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ ابھی تک فارم داخل کرنے کی تاریخ میں کسی قسم کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ پہلے اگر لوگ فارم داخل نہیں کر پاتے تھے، تو لوگوں کی درحواست فارم داخل کرنے کی تاریخ میں توسیع کو لے کر فون بھی آتے تھے اور درخواست بھی لوگ تحریری طور پر کرتے تھے، مگر امسال ابھی تک تاریخ میں توسیع کو لے کرکسی نے درخواست نہیں دی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ حج 2021 کے لئے صرف ایم پی کے عازمین حج نے سرد مہری کا مظاہرہ کیا بلکہ یہی صورتحال ملک کی سبھی ریاستوں کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 28 دن میں حج کمیٹی آف انڈیا کو دو لاکھ سے زیادہ حج فارم موصول ہوئے تھے۔ وہیں امسال حج کمیٹی آف انڈیا کے پاس 36 ہزار عازمین حج کی ہی درخواست پہنچی ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا حج فارم داخل کرنے کی تاریخ میں توسیع کرتی ہے، یا اسی تعداد پر اکتفا کرکے اپنا آگے کام کریگی اس پر سبھی کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 08, 2020 10:51 PM IST