உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    منی پور میں بڑھ سکتے ہیں دہشت گردانہ حملے، الیکشن سے پہلے سیکورٹی فورسیز کو نشانہ بناسکتا ہے پی ایل اے : خفیہ ذرائع

    منی پور میں بڑھ سکتے ہیں دہشت گردانہ حملے، الیکشن سے پہلے سیکورٹی فورسیز کو نشانہ بناسکتا ہے پی ایل اے : خفیہ ذرائع ۔ تصویر : پی ٹی آئی ۔

    منی پور میں بڑھ سکتے ہیں دہشت گردانہ حملے، الیکشن سے پہلے سیکورٹی فورسیز کو نشانہ بناسکتا ہے پی ایل اے : خفیہ ذرائع ۔ تصویر : پی ٹی آئی ۔

    PLA Planning More Attacks Before Polls : خفیہ جانکاری کے مطابق حملے میں زخمی ہوا شدت پسند امپھال وادی کے میتیئی علاحدگی پسند گروپ سے وابستہ ہوا ہے ۔ حالانکہ شدت پسند کی لوکیشن کا پتہ ابھی نہیں چل سکا ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : گزشتہ ہفتہ منی پور میں آسام رائفلس پر گھات لگاکر ہوئے حملے میں خفیہ ایجنسیوں کے سامنے نئی نئی جانکاریاں سامنے آرہی ہیں ۔ نئی خفیہ جانکاری کے مطابق 46 آسام رائفلس پر ہوئے حملے کے دوران پیپلز لبریشن آرمی کا دہشت گردی بھی زخمی ہوا تھا ۔ اس حملے میں ایک کمانڈنگ افسر ، ان کی بیوی ، بیٹے اور چار جوانوں کی شہادت ہوگئی تھی ۔

      خفیہ جانکاری کے مطابق حملے میں زخمی ہوا شدت پسند امپھال وادی کے میتیئی علاحدگی پسند گروپ سے وابستہ ہوا ہے ۔ حالانکہ شدت پسند کی لوکیشن کا پتہ ابھی نہیں چل سکا ہے ۔ لیکن اس کے منی پور کے چوراچاند پور ضلع میں ہونے ہونے کا امکان ہے ۔ اسی جگہ پر گزشتہ ہفتہ حملہ بھی ہوا تھا ۔ یہ ضلع میانمار بارڈر سے لگتا ہے ۔

      بتا دیں کہ یہ حملہ گزشتہ ہفتہ کو ہوا تھا۔ آسام رائفلس کی بٹالین کے کمانڈنگ افسر وپلو ترپاٹھی کرنل رینک کے افسر تھے ۔ ان کی بیوی ، چھ سال کے بیٹے کے علاوہ نیم فوجی دستہ کے چار جوانوں کی ہفتہ کی صبح ایک حملے میں موت ہوگئی تھی ۔ پی ایل اے اور ایم این پی ایف نے شمال مشرقی ریاست چورا چاند پور ضلع کے سیہکن گاوں میں گھات لگا کر کئے گئے حملے کی ذمہ داری لی ہے ۔

      خفیہ ذرائع کی جانکاری کے مطابق وپلو ترپاٹھی کے قافلے کو نشانہ بنانے کیلئے سات آئی ای ڈی دھماکوں کا استعمال کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد جوانوں اور شدت پسندوں میں گن فائٹ بھی ہوئی تھی ۔

      خفیہ جانکاری یہ بھی کہتی ہے کہ اب پی ایل اے اسی طرح کے اور حملے کرنے کی پلاننگ کرسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ایم ای پی ایف اور پیپلز ریولیوشنری پارٹی آف کانلے ای پیک جیسی تنظیم بھی اسی طرح کے حملے سیکورٹی فورسیز پر مستقبل قریب میں کرسکتے ہیں ۔

      ایک دیگر جانکاری کے مطابق اسمبلی انتخابات کے دوران بھی پی ایل اے سیکورٹی فورسیز کو نشانہ بناسکتا ہے ۔ خاص طور پر میانمار سے متصل علاقوں میں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: