உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    PM Modi: ڈیجیٹل زراعت ہی ہے ہندوستان کامستقبل،ICRISATمیں پی ایم مودی کاخطاب

    Youtube Video

    پی ایم مودی نے ICRISAT کیمپس میں منعقد کی گئی نمائش کا بھی مشاہد ہ ۔ پی ایم مودی کے ساتھ تلنگانہ کے گورنرتملی سائی سوندراراجن اور مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کے علاوہ وزیرمملکت برائے سیاحت جی کشن ریڈی بھی موجود رہے۔

    • Share this:
      وزیر اعظم نریندر مودی تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے دورے پر ہیں ۔ سنیچر کو، پی ایم مودی شہر کے پٹھان چیرو میں واقع 'انٹرنیشنل کراپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار سیمی ایرڈ ٹراپکس' (ICRISAT) کیمپس پہنچے۔ انہوں نے یہاں ICRISAT کی 50 سالہ گولڈن جوبلی تقاریب کا افتتاح انجام دیا۔۔ پی ایم مودی نے ICRISAT کیمپس میں منعقد کی گئی نمائش کا بھی مشاہد ہ ۔ پی ایم مودی کے ساتھ تلنگانہ کے گورنرتملی سائی سوندراراجن اور مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کے علاوہ وزیرمملکت برائے سیاحت جی کشن ریڈی بھی موجود رہے۔

      یہاں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا، ICRISAT کے پاس زراعت کو آسان اور پائیدار بنانے میں دوسرے ممالک کی مدد کرنے میں 5 دہائیوں کا تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ، میں امید کرتا ہوں کہ ICRISATہندوستان کے زرعی شعبے کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی مہارت فراہم کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے 2070 تک Zero Carbonکا ہدف مقرر کیا ہے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ ہندوستان نے ماحولیات کے لیے طرز زندگی کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا ہے اور پرو پلانیٹ پیپل موؤمنٹ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ یہ ایک ایسی تحریک ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے اور ہر فرد کو آب و ہوا سے جوڑتی ہے۔


      اپنے خطاب میں پی ایم مودی نے کہا کہ ہندوستان میں 15 زرعی آب و ہوا والے زون ہیں۔ وزیراعظم مود ی نے کہا کہ ہندوستان کے پاس زراعت سے متعلق بہت متنوع اور بہت قدیم تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کے لیے، ہماری توجہ بنیادی باتوں کی طرف لوٹنے اور مستقبل کی طرف بڑھنے دونوں کے امتزاج پر ہے۔ ہماری توجہ ملک کے 80 فیصد سے زیادہ چھوٹے کسانوں پر ہے جنہیں ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

      پی ایم مودی نے کہا، ہندوستان ہمیشہ تبدیلیوں کو قبول کرتارہاہے۔ انہو ں نے کہا کہ ڈیجیٹل زراعت ہی ہمارا مستقبل ہے اور اس میں ہندوستان کے باصلاحیت نوجوان بہت اچھا کام کر سکتے ہیں۔ ہندوستان میں مسلسل کوششیں کی جارہی ہے کہ کس طرح ہم کسان کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے بااختیار بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دوہری حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ ایک طرف ہم پانی کے تحفظ کے ذریعے دریاؤں کو جوڑ کر ایک بڑے رقبے کو زیر آب لا رہے ہیں۔ دوسری طرف، ہم کم آبپاشی والے علاقوں میں پانی کے بہتر استعمال کے لیے مائیکرو ایری گیشن پر زور دے رہے ہیں۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: