ہوم » نیوز » وطن نامہ

یوم دستور: فرائض کی ادائیگی میں ہی شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے:پی ایم مودی کا خطاب

۔ملک کے آئین کے 70سال پورے ہونے کے موقع پر یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی ہال میں دونوں ایوانوں کی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتےہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ ملک کے عوام ہی آئین کی طاقت ہیں

  • Share this:
یوم دستور: فرائض کی ادائیگی میں ہی شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے:پی ایم مودی کا خطاب
آئین کے 70سال پورے ہونے کے موقع پرپارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی ہال میں دونوں ایوانوں کی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتےہوئے پی ایم مودی۔(تصویر:پی آئی بی)۔

وزیراعظم نریندرمودی نے آج زور دے کر کہا کہ فرائض کی ادائیگی میں ہی شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے اور نئے ہندوستان کی تعمیر کےلئے شہریوں کی ہر سرگرمی میں ان کے فرائض کی ادائیگی پر پورا زورہونا چاہئے۔ملک کے آئین کے 70سال پورے ہونے کے موقع پر یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی ہال میں دونوں ایوانوں کی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتےہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ ملک کے عوام ہی آئین کی طاقت ہیں اوراس کی تحریک ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا مقصد بھی ہیں۔ ہندوستانی آئین کوعالمی جمہوریت کی بہترین کامیابی بتاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ شہریوں کو نہ صرف حقوق کے تئیں بیداررکھتاہےبلکہ ان کے فرائض کے تئیں محتاط بھی بناتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ اس موقع پر سبھی شہری عزم کریں کہ فرائض کی ادائیگی کے جذبے کے ساتھ ہم مل کر ملک کی تعمیر نو میں تعاون کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر شہری کی کوشش ہونی چاہئے کہ ان کے ہر پروگرام اور ہر بات چیت میں فرائض پر ہی توجہ مرکوز رہے۔ملک پر فخر کرنے والے شہری ہونے کے ناطےہمیں سوچنا چاہئے کہ ہمارے کاموں سے ملک کو اور مضبوط کیسے بنایا جاسکتا ہے۔وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے حقوق اور فرائض کے رشتے اوران کے درمیان توازن کے سلسلے میں کہاتھا کہ فرائض انجام دے کر ہی شہری اپنے حقوق حاصل کرتے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک کا آئین ہر شہری کو عزت دینے اور ملک کے اتحاد اور سالمیت کے بنیادی اصول پر مبنی ہے۔آئین نے ان دونوں اصولوں کو پورا کرتے ہوئے شہریوں کے احترام کو سب سے اوپر رکھا ہے اور مکمل ہندوستان کےاتحاد اورسالمیت کو برقرار رکھا ہے۔مودی نے کہا ،’’ہمارا آئین ،ہمارے لئے سب سے بڑا اور مقدس گرنتھ ہے۔ایک ایسا گرنتھ جس میں ہماری زندگی کی،ہمارے سماج کی،ہماری روایات اور جذبات کی مکمل عکاسی ہے اور نئے چیلنجوں کا حل بھی ہے۔  





وزیراعظم نے کہا کہ آئین کی روح میں خوشی ، سبقت اور اختتامیہ کے ملے جلے اظہارات ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ آئین کی روح مستحکم اورمضبوط ہے۔ یہاں تک کہ اگر اس طرح کی کچھ کوششیں ہوئیں ، تو بھی اہلِ وطن نے ان کو ایک ساتھ ناکام کردیا ، آئین پر آنچ نہیں آنے دی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آئین کو مضبوط بنانے کی وجہ سے ہم ’ایک بھارت ،شریشٹھ بھارت‘کی طرف بڑھے ہیں ۔ہم نے تمام اصلاحات مل جل کر آئین کے دائرہ کار میں ہی انجام دی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ یہ ایک وسیع اور متنوع ہندوستان کی ترقی ، سنہرے مستقبل کے لئے ، نئے ہندوستان کے لئے واحد راستہ ہے۔ آئین میں آئین ساز اسمبلی کے ممبران کے خواب الفاظ کی شکل میں ڈھل چکے ہیں۔

ریندرمودی نے کہا کہ ملک کے 130 کروڑ شہریوں نے کبھی بھی جمہوریت پر اعتماد کو کم نہیں ہونے دیا اور آئین کو ہمیشہ ایک مقدس گرنتھ اور ’رہنمائی کی روشنی‘ سمجھا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر بابا صاحب آج ہوتے تو ان سےزیادہ خوش اورکوئی نہ ہوتا ، کیوں کہ ہندوستان نے اتنے برسوں میں نہ صرف ان کے سوالوں کے جواب دئےبلکہ اپنی آزادی کو، جمہوریت کو اوربھی تقویت بخشی ہے۔‘‘


یارہے کہ آج یوم دستورہندہے۔26 نومبر1949 کو ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکرکی قیادت میں 7 رکنی آئین سازکمیٹی نے مسودہ حکومت کو سونپا تھا۔ دراصل ہندوستان کےآزاد ہوجانےکےبعد دستورسازاسمبلی کااعلان ہوااوراس نے اپناکام 9دسمبر1947 سےشروع کردیا۔ دستورساز اسمبلی نے2سال 11مہینے18دن میں ہندوستانی آئین کومرتب کیااوردستورسازاسمبلی کےصدرراجیندرپرساد کو26 نومبر1949 کوہندوستان کاآئین سپرد کیاگیا۔اس آئین کا نفاذ 26 جنوری 1950 سے عمل میں آیا ۔آئین کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے کے لیے اس دن کو یعنی 26 نومبرکویوم دستورہند کےطورپرمنایاجاتاہے۔
First published: Nov 26, 2019 01:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading