உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر اعظم مودی ایس سی او کی میٹنگ میں شامل ہونے کیلئے سمرقند پہنچے، جانئے کن معاملات پر ہوسکتی ہے گفتگو؟

    وزیر اعظم مودی ایس سی او کی میٹنگ میں شامل ہونے کیلئے سمرقند پہنچے ۔ تصویر : اے این آئی ۔

    وزیر اعظم مودی ایس سی او کی میٹنگ میں شامل ہونے کیلئے سمرقند پہنچے ۔ تصویر : اے این آئی ۔

    وزیراعظم مودی کے چوٹی کانفرنس کے موقع پر دو طرفہ میٹنگیں کرنے کی بھی امید ہے ، جس میں پوتن اور ازبیک صدر سمیت دیگر لیڈروں سے ان کی بات چیت ہوگی ۔ حالانکہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی ممکنہ میٹنگ کے بارے میں کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi | New Delhi
    • Share this:
      سمرقند: وزیر اعظم نریندر مودی جمعرات کو شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن ( ایس سی او) کی چوٹی کانفرنس میں شرکت کرنے کیلئے ازبیکستان کے شہر سمرقند پہنچے ۔ اس چوٹی کانفرنس میں علاقائی سیکورٹی چیلنجز ، کاروبار اور توانائی سپلائی کو فروغ دینے سمیت کئی دیگر معاملات پر گفتگو ہونے کی تیاری ہے ۔ دو سال بعد پہلی مرتبہ ایس سی او کی چوٹی کانفرنس میں لیڈروں کی ذاتی طور پر موجودگی نظر آئے گی ۔ اس میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ بھی شامل ہوں گے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: آسام حکومت اور 8 قبائلی گروپوں کے درمیان ہوا سمجھوتہ، امت شاہ نے بتایا تاریخی


      وزیراعظم مودی کے چوٹی کانفرنس کے موقع پر دو طرفہ میٹنگیں کرنے کی بھی امید ہے ، جس میں پوتن اور ازبیک صدر سمیت دیگر لیڈروں سے ان کی بات چیت ہوگی ۔ حالانکہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی ممکنہ میٹنگ کے بارے میں کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: حجاب کیس: سپریم کورٹ نے کہا : تعلیمی اداروں کو ڈریس مقرر کرنے کا اختیار


      وزیر اعظم مودی نے روانہ ہونے سے پہلے اپنے بیان میں کہا کہ ایس سی او چوٹی کانفرنس میں میں اہم ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کرنے ، ایس سی او کی توسیع اور آرگنائزیشن کے اندر کثیر جہتی اور باہمی مفید تعاون کو مزید گہرا کرنے کو لے کر پرجوش ہوں ۔

      انہوں نے کہا کہ ازبیک کی صدارت میں کاروبار، معیشت ، کلچر اور سیاحت کے علاقوں میں آپسی تعاون کیلئے کئی فیصلے کئے جانے کا امکان ہے ۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وہ صدر سے ملنے کیلئے بھی پرجوش ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: