உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    واشنگٹن روانہ ہونے سے قبل وزیر اعظم مودی نے کہا- امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا سے رشتے مضبوط کرنے کا موقع

    واشنگٹن روانہ ہونے سے قبل وزیر اعظم مودی نے کہا- امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا سے رشتے مضبوط کرنے کا موقع

    واشنگٹن روانہ ہونے سے قبل وزیر اعظم مودی نے کہا- امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا سے رشتے مضبوط کرنے کا موقع

    امریکہ روانہ ہونے سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا یہ سفر امریکہ کے ساتھ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے، اسٹریٹجک شراکت جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کا ایک موقع ہوگا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      امریکہ (America) روانہ ہونے سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) نے کہا ’یہ امریکہ کے ساتھ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے، اسٹریٹجک شراکت جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کا ایک موقع ہوگا‘۔ وزیر اعظم نے کہا، ’25-22 ستمبر کے درمیان امریکہ کے اپنے سفر کے دوران، میں امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ ہندوستان - امریکہ کے ساتھ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کا جائزہ لینے کے ساتھ آپسی مفادات کے علاقائی اور عالمی موضوعات پر تبادلہ خیال کروں گا۔

      انہوں نے کہا، میں امریکی صدر جو بائیڈن، آسٹریلیائی وزیر اعظم اسکاٹ ماریسن اور جاپان کے وزیر اعظم یوشیہیدے سگا کے ساتھ کواڈ رہنماوں کے اجلاس میں شرکت کروں گا۔ یہ سمٹ انڈو پیسیفک خطے کے لیے ہمارے مشترکہ وژن کی بنیاد پر مستقبل کی مصروفیات کے لیے ترجیحات کی شناخت کا موقع فراہم کرتا ہے۔

      وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’امریکہ کا یہ میرا دورہ امریکہ کے ساتھ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے، اسٹریٹجک شراکت داروں جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے اور اہم عالمی موضوعات پر ہمارے تعاون کو آگے بڑھانے کا موقع ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ عالمی موضوعات پر تبادلہ خیال کرنے اور ہندوستان - امریکہ کے درمیان تعاون کے لئے امریکی نائب صدر کملا ہیرس سے ملنے کے لئے بھی پُرجوش ہیں‘۔

      وزیر اعظم نریندر مودی نے مزید کہا ’میرا دورہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے بعد اختتام پذیر ہوگا۔ اس خطاب میں کووڈ-19 وبا، دہشت گردی سے نمٹنے کی ضرورت، عالمی چیلنجز بشمول موسمیاتی تبدیلی اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: