உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    PM Modi Security Breach: سپریم کورٹ کی جانچ کمیٹی کی چیئرپرسن جسٹس اندو ملہوترا کو ملی دھمکی

    سپریم کورٹ: فائل فوٹو

    سپریم کورٹ: فائل فوٹو

    وزیر اعظم نریندر مودی کے سیکورٹی چوک معاملے (PM Modi Security Breach) کی جانچ کر رہی سپریم کورٹ کی جانچ کمیٹی کی چیئرپرسن اور سابق جج جسٹس اندو ملہوترا کو دھمکی ملی ہے۔ یہ دھمکی انہیں سکھ فار جسٹس (SFJ) کی طرف سے دی گئی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کے سیکورٹی چوک معاملے (PM Modi Security Breach) کی جانچ کر رہی سپریم کورٹ کی جانچ کمیٹی کی چیئرپرسن اور سابق جج جسٹس اندو ملہوترا کو دھمکی ملی ہے۔ یہ دھمکی انہیں سکھ فار جسٹس (SFJ) کی طرف سے دی گئی ہے۔ اس تنظیم نے دھمکی بھرے آڈیو کلپ جاری کئے ہیں۔ دھمکی میں کہا گیا ہے کہ انہیں وزیر اعظم مودی اور سکھوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ہوگا۔ بتادیں کہ اس سے پہلے بھی سپریم کورت کے کئی وکلا کو اس معاملے میں دھمکی بھرے کال آئے تھے۔ وکیلوں سے بھی وزیر اعظم مودی کی سیکورٹی کی چوک کے معاملے سے دور رہنے کو کہا گیا تھا۔

      واضح رہے کہ 12 جنوری کو سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی پنجاب یاترا کے دوران سیکورٹی میں ہوئی چوک کی جانچ کے لئے کمیٹی کا اعلان کیا تھا۔ یہ پانچ رکنی کمیٹی سابق جج اندوملہوترا کی صدارت میں تشکیل دی گئی ہے۔

      سپریم کورٹ کے وکیلوں کو بھی ملی دھمکی

      وزیر اعظم کی سیکورٹی میں چوک کے معاملے میں یہ کوئی پہلی دھمکی نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے وکیلوں کو خالصتان حامیوں نے جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ تقریباً درجن بھر وکیلوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کو دھمکی آمیز کال ملے ہیں۔ یہ کال انہیں سکھ فار جسٹس کی طرفسے انگلینڈ کے نمبر سے آئے تھے۔ وکیلوں کو دھمکی دیا گیا تھا کہ وزیر اعظم مودی کی سیکورٹی کو لے کر چل رہی سماعت میں وہ حصہ نہ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 1984 سکھ فسادات اور قتل عام میں اب تک ایک بھی قصور وار کو سزا نہیں ملی ہے۔ لہٰذا اس معاملے کی سماعت نہیں ہونی چاہئے۔

      جانچ کمیٹی میں اور کون؟

      بینچ نے جسٹس اندو ملہوترا کے علاوہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل یا ان کا نمائندہ (جو انسپکٹر جنرل آف پولیس کے درجے سے نیچے نہیں ہوں)، چندی گڑھ کے پولیس جنرل ڈائریکٹر اور پنجاب کے ایڈیشنل پولیس جنرل ڈائریکٹر (سیکورٹی) کو کمیٹی کا رکن بنایا ہے۔ پنجاب اورہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل بھی اس میں رکن ہیں اور ان سے کمیٹی کے کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کرنے کو کہا گیا ہے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: