ہندوستان اور روس کے درمیان 15 سمجھوتوں پر دستخط ، پوتن نے کہا : ہندوستانی کمپنیوں کا روس میں خیر مقدم

ہندوستان اور روس نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری اور باہم اعتماد کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کے ساتھ 15 سمجھوتوں پر آج دستخط کیے ۔

Sep 04, 2019 08:25 PM IST | Updated on: Sep 04, 2019 08:25 PM IST
ہندوستان اور روس کے درمیان 15 سمجھوتوں پر دستخط ، پوتن نے کہا : ہندوستانی کمپنیوں کا روس میں خیر مقدم

ہندوستان اور روس کے درمیان 15 سمجھوتوں پر دستخط، پوتن نے کہا:ہندوستانی کمپنیوں کا خیر مقدم

ہندوستان اور روس نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری اور باہم اعتماد کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کے ساتھ 15 سمجھوتوں پر آج دستخط کیے ۔ دونوں ممالک کے درمیان انرجی، خلا اور دفاع کے شعبے میں باہمی تعاون کو وسعت دینے کا خاکہ طے کیا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان 20ویں ہندوستان۔روس سالانہ چوٹی اجلاس میں ان دستاویزپر دستخط کیےگئے۔ ان میں ہندوستان میں سوویت یونین اور روس کے فوجی آلات اور ہتھیاروں کے پرزوں کے بنانے، دفاع ، خلا، چنئی سے ولادیووستوک کے درمیان بحری روابط قائم کرنے اور قدرتی گیس کے بارے میں معاہدے شامل ہیں۔

اپنے مشترکہ پریس بیان میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ خصوصیت کی حامل اسٹریٹجک شراکت داری نہ صرف ہمارے ممالک کے مشترکہ مفادات کے کام آئی ہے بلکہ اسے ہم نے عوام کی ترقی اور براہ راست ان کے مفادات سے مربوط کیا ہے۔ صدر پوتن اور میں اس رشتے کو یقین اور شراکت داری کے ذریعے تعاون کی نئی بلندیوں تک لے گئے ہیں اور اس کے کارناموں میں محض کوانٹیِٹی ہی نہیں بلکہ کوالٹی تبدیلی بھی لائے ہیں۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ ہم نے تعاون کو سرکاری دائرے سے باہر لاکر اس میں عوام اور نجی صنعتوں کی لا محدود انرجی کو جوڑا ہے۔ دفاع اور اسٹریٹجک شعبے میں بھی روسی آلات کے پرزے ہندوستان میں دونوں ملکوں کے مشترکہ صنعتوں کے ذریعے بنائے جانے سے آج ہونے والا معاہدہ دفاعی صنعتوں کو فروغ دے گا۔ یہ معاہدہ اور رواں برس کے آغاز میں اے کے۔203 رائفلوں کی مینوفیکچرنگ مشترکہ صنعت ایسے اقدامات ہیں جو ہمارے دفاعی تعاون کو بیچنے والے اور خریدنے والے کی محدود ماحول سے پرےمشترکہ مینوفیکچرنگ کا ٹھوس بنیاد دے رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے تعلقات کوباہم اعتماد اور شراکت داری کی نئی بلندیوں تک پہنچانے سے متعلق مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان دستاویز میں ہندوستان اور روس تجارت اور سرمایہ کاری کی توسیع پر مشترکہ اسٹریٹجی، سوویت، روس فوجی آلات کے پرزوں کو بنانے کی صنعت، آڈیو اور ویڈیو مواد کی ایجاد میں تعاون، سڑک تعمیراور ٹرانسپورٹ میں دو طرفہ تعاون، چنئی بندرگاہ سے ولادیووستوک کے درمیان بحری مواصلات شروع کرنے، کسٹم ڈیوٹی کے خلاف ورزی کے امور سے نمٹنے، روس سے سرمایہ کاری حاصل کرنے، فکی اور روس کانگریس فاؤنڈیشن کے درمیان وغیرہ کے قرار شامل ہیں۔

دونوں ملکوں نے ٹرانسپورٹ کے لیےقدرتی گیس کا استعمال ، کوکنگ کول کانکنی منصوبوں پرمشترکہ طورپر عمل درآمد اور قدرتی گیس کے فروختگی اور استعمال کے سلسلے میں مختلف معاہدوں پر دستخط کیا۔

Loading...