உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hanuman Janmotsav 2022:پی ایم مودی آج گجرات کے موربی میں کریں گے ہنومان کے108 فٹ اونچے مجسمے کی نقاب کشائی

    وزیر اعظم مودی آج کریں گے گجرات کے موربی میں ہنومان کے مجسمے کی نقاب کشائی۔

    وزیر اعظم مودی آج کریں گے گجرات کے موربی میں ہنومان کے مجسمے کی نقاب کشائی۔

    پی ایم کے دفتر نے مزید کہا، 'ہنومان جی چار دھام پروجیکٹ سیریز کا پہلا مجسمہ شمال میں ہماچل پردیش کے شملہ میں 2010 میں نصب کیا گیا تھا، جب کہ جنوب میں رامیشورم میں تیسرے مجسمے پر کام شروع ہو چکا ہے۔

    • Share this:
      Hanuman Janmotsav 2022:آج ہفتہ، 16 اپریل کو، ہنومان جنم اتسو چتر مہینے کے شوکل پکش پورنیما کے موقع پر منایا جائے گا۔ ہنومان جنم اتسو کے دن، وزیر اعظم نریندر مودی آج صبح 11 بجے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے گجرات کے موربی میں بھگوان ہنومان کی 108 فٹ کی مورتی کی نقاب کشائی کریں گے۔ یہ جانکاری وزیر اعظم کے دفتر (PMO) نے دی ہے۔

      وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق ہنومان جی چار دھام پروجیکٹ کے تحت ملک بھر میں چار سمتوں میں نصب کی جانے والی چار مورتیوں میں سے یہ دوسری ہے۔ پی ایم او نے کہا کہ یہ مورتی ملک کے مغربی حصے میں موربی میں پرم پوجیہ باپو کیشوآنند جی کے آشرم میں نصب کی گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ڈیزل سے چلنے والی ٹرینوں کے Ticketپرسرچارج نہیں،اضافی کرایہ کے اندیشوں کو کیاگیامسترد

      پی ایم کے دفتر نے مزید کہا، 'ہنومان جی چار دھام پروجیکٹ سیریز کا پہلا مجسمہ شمال میں ہماچل پردیش کے شملہ میں 2010 میں نصب کیا گیا تھا، جب کہ جنوب میں رامیشورم میں تیسرے مجسمے پر کام شروع ہو چکا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ہندوستان کے خلاف کچھ اس طرح سازش رچ رہا ہے Pakistan، نفرت بڑھانے کے لئے کیا یہ کام

      بتادیں کہ اس سال ہنومان جنم اتسو کا شوبھ دن آج 16 اپریل بروز ہفتہ کو ہے۔ ہفتہ ہونے کی وجہ سے اس ہنومان جنم اتسو کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ ہندو کیلنڈر کے مطابق ہنومان جنم اتسو سال میں دو بار آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہنومان کی پیدائش کے بارے میں تھوڑا سا اختلاف ہے۔ رامائن کے مطابق، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پون کے بیٹے کی پیدائش کارتک مہینے کے کرشن پاکش کی چتردشی کی تاریخ کو ہوئی تھی۔ وہیں دوسری طرف، ایک اور طبقے کا خیال ہے کہ ہنومان جی کی پیدائش چیترا مہینے کے شوکل پکش کی پورنیما کے دن ہوئی تھی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: