ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

VivaTech 2021:زمین کو اگلی وبا سے بچانے کے لئے کام کرنے کی ضرورت: پی ایم مودی

پی ایم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ فرانس اور یوروپ ہندستان کے اہم شراکت دار وں میں ہیں۔ مئی میں پورٹو میں ای یو لیڈروں کے ساتھ چوٹی کانفرنس میں صدر میخروں کے ساتھ اپنی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ اسٹارٹ اپس پر کوانٹم کمپیوٹنگ تک ڈیجیٹل شراکت داری ایک اہم ترجیح کے طورپر ابھری ہے

  • Share this:
VivaTech 2021:زمین کو اگلی وبا سے بچانے کے لئے کام کرنے کی ضرورت: پی ایم مودی
وزیراعظم نریندرمودی کی فائل فوٹو

وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ کورونا وبا کے مدنظر پوری دنیا میں ہوئی افرا تفری کی مایوسی سے نکل کر سب کو متحد ہوکر معیشت کو پٹری پر لانے اور زمین کو اگلی وبا سے بچانے کی سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔پی ایم مودی نے ویوا ٹیک کے پانچویں ایڈیشن میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ مہمان خصوصی کے طورپر تقریر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ وزیراعظم کو 2016سے ہر سال پیرس میں ہورہے یوروپ کے سب سے بڑے ڈیجیٹل اور اسٹارٹ اپ پروگراموں میں سے ایک ویوا ٹیک 2021میں خطاب کے لئے مہمان خصوصی کے طورپر مدعو کیا گیا تھا۔


وزیراعظم نے کہاکہ ہندستان اور فرانس مختلف شعبوں میں ملکر کام کرتے ہیں۔ ان میں تکنالوجی اور ڈیجیٹل تعاون کے ابھرتے ہوئے شعبے اہم ہیں۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ایسے تعاون کو مسلسل بڑھایا جائے۔ اس سے نہ صرف ہماری قومی بلکہ دنیا کو بھی کافی حد تک مدد ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ انفوسس فرینچ اوپن ٹورنامنٹ کے لئے تکنیکی حمایت دستیاب کرا رہی ہے اور ایٹس، کیپوجیمنی جیسی فرانس کی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔ہندستان کی ٹی سی ایس اور وپروپوری دنیا کی کمپنیوں اور شہریوں کی خدمت کرنے والی دونوں ممالک کی آئی ٹی صلاحیت کی مثال ہیں۔



پی  ایم مودی نے کہاکہ جہاں روایت ناکام ہوتی ہے وہیں جدت سے مدد ملتی ہے۔ وبا کے دوران ڈیجیٹل تکنیک نے مقابلہ کرنے، جڑنے، آرام اور سکون بخش ہونے میں ہماری مدد کی۔ہندستان کے یونیورسل اور مخصوص بایو میٹرک ڈیجیٹل شناخت نظام۔آدھار نے غریبوں کو بروقت مالی مدد دستیاب کرانے میں مدد کی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ ہم نے 80کروڑ لوگوں کو مفت فوڈ کی سپلائی کی ہے اور کئی کنبوں کو رسوئی گیس سبسڈی دی ہے۔ ہندستان میں ہم کم وقت میں طلبا کی مدد کے لئے دو سرکاری ڈیجیٹل تعلیمی پروگراموں۔ ’سوئیں اور دیکشا‘ کے انعقاد میں کامیاب ہوئے ہیں۔

گزشتہ برس مختلف شعبوں میں اتھل پتھل کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے زور دیکر کہاکہ خلل کا مطلب مایوسی نہیں ہے۔ اس کے بجائے مرمت اور تیاری کی دو بنیادوں کا خیال رکھاجانا چاہئے۔ مسٹر مودی نے کہاکہ گزشتہ برس اس وقت دنیا ایک ویکسین تلاش کررہی تھی۔ آج ہمارے پاس کچھ ویکسین ہیں۔ اسی طرح ہم اپنے ہیلتھ انفراسٹرکچر اور ہماری معیشت کو مرمت کا کام جاری رکھنا ہے۔ ہندستان میں ہم نے کانکنی، خلا، بینکنگ، جوہری توانائی وغیرہ کئی شعبوں میں کاروباری اصلاحایت نافذ کی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وبا کے درمیان میں ایک قوم کے طورپر ہندستان مستعد ہے۔


وزیراعظم نے اگلی وبا سے ہمارے سیارے کو بچانے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں ایسی پائیدار طرز زندگی پر زور دینا چاہئے جو ماحولیاتی پستی کو روک سکے۔ اس کے لئے تحقیق کے ساتھ ساتھ جدت طرافی میں تعاون بڑھانا ہوگا۔اسٹارٹ اپ کمیونٹی کو اس چیلنج سے نکلنے کے لئے اجتماعیت کے جذبہ اور انسانیت پسند نقطہ نظر کے ساتھ کام کرنے کی پہل کرنی چاہئے۔ وزیراعظم نے کہاکہ اسٹارٹ اپ شعبہ پر نوجوانوں کاغلبہ ہے۔ یہ لوگ ماضی کے بوجھ سے آزاد ہیں۔ ہمارے اسٹارٹ اپس کو ہیلتھ، فضلہ ری سائکلنگ،زراعت، نئی نسل کی تعلیم کے وسائل سمیت ماحولیات کے موافق تکنیک جیسے شعبوں میں کھوج کرنی چاہئے۔

پی ایم مودی نے وبا کے چیلنج سے نپٹنے میں اسٹارٹ اپ شعبہ کے کردار کی تعریف کی۔ نجی شعبہ نے پی پی ای کٹ، ماسک، ٹیسٹنگ کٹ وغیرہ کی کمی دور کرنے میں اہم کردار ادا کیاہے۔ ڈاکٹروں نے بڑے پیمانہ پر ریموٹ تھراپی کو اپنایا جس سے کووڈ او دیگر غیرکووڈ مسائل کو ورچول ذریعہ سے حل کیا جاسکا۔دو ویکسین ہندستان میں بنائی جارہی ہیں اور کئی دیگر تیاری یا ٹیسٹنگ کے مرحلہ میں ہیں۔ وزیراعظم نے اشارہ دیا کہ دیسی آئی ٹی پلیٹ فارم آروگیہ سیتو نے رابطے کو موثر انداز میں قابل بنایا ہے۔کووڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے پہلے ہی کروڑوں لوگوں کے لئے ویکسین یقینی بنانے میں مدد مل چکی ہے۔ وزیراعظم نے جدید ترین عوامی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، 1.56لاکھ دیہی کونسلوں کو جوڑنے کے لئے 5.23لاکھ کلومیٹر لمبے فائبر آپٹک نیٹورک، پورے ملک میں پبلک وائی فائی نیٹورک جیسی پہلوں کا بھی ذکر کیا۔


انہوں نے جدت کو فروغ دینے کی کوششوں کے بارے میں بھی بتایا۔وزیراعظم نے کہاکہ اٹل انوویشن مشن کے تحت، ملک کے 7500اسکولو ں میں جدید ترین لیباریٹریز ہیں۔

پی ایم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ فرانس اور یوروپ ہندستان کے اہم شراکت دار وں میں ہیں۔ مئی میں پورٹو میں ای یو لیڈروں کے ساتھ چوٹی کانفرنس میں صدر میخروں کے ساتھ اپنی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ اسٹارٹ اپس پر کوانٹم کمپیوٹنگ تک ڈیجیٹل شراکت داری ایک اہم ترجیح کے طورپر ابھری ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ تاریخ نے یہ ظاہر کیا ہے کہ نئی تکنالوجی کا آغاز معاشی طاقت، روزگار اور خوشحالی کا باعث ہے، لیکن ہماری شراکت داری کو انسانیت کی خدمت میں بڑے مقاصد بھی پورے کرنے چاہئیں۔ یہ وبا نہ صرف ہماری لچک بلکہ ہمارے تخیل کا بھی امتحان ہے۔ یہ ایک موقع ہے کہ سب کے لئے زیادہ جامع، دیکھ بھال سے پراور پائیدار مستقبل کی تعمیر کی جائے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jun 17, 2021 08:18 AM IST