உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر اعظم مودی نے یوکرین کے صدر سے کی بات، روس سے جنگ ختم کرانے میں مدد کا دیا آفر

    وزیر اعظم مودی نے یوکرین کے صدر سے کی بات، روس سے جنگ ختم کرانے میں مدد کا دیا آفر ۔ تصویر : Twitter

    وزیر اعظم مودی نے یوکرین کے صدر سے کی بات، روس سے جنگ ختم کرانے میں مدد کا دیا آفر ۔ تصویر : Twitter

    وزیر اعظم نریندر مودی نے زیلینسکی سے کہا کہ ہندوستان امن کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے سربراہوں کے درمیان دوطرفہ معاملات پر بھی گفتگو ہوئی ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi | New Delhi
    • Share this:
      نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کی شام کو یوکرین کے صدر زیلینسکی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی ۔ اس دوران انہوں نے یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ پر گفتگو کی اور اس بات پر زور دیا کہ یوکرین بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہوسکتا ہے ۔ وزیر اعظم دفتر کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مودی اور زیلنسکی نے یوکرین میں جاری جنگ پر بات چیت کی اور اس دوران ایک مرتبہ پھر دوہرایا کہ گفتگو اور سفارتکاری کے ذریعہ اس کا حل نکل سکتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے جلد سے جلد جنگ کے خاتمہ کی بھی اپیل کی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور ٹی وی چینلز سے بیٹنگ سائٹ اشتہارات کو روکا جائے، مرکز کی ہدایت


      وزیر اعظم نریندر مودی نے اس دوران روسی افواج سے لوہا لے رہے مشرقی یوروپی ممالک میں موجود نیوکلیئر تنصیات کے تحفظ کو لے کر بھی تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نیوکلیئر تنصیاب کو خطرے میں ڈالنے کے عوامی صحت اور ماحولیات پر دور رس اور تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

       

      یہ بھی پڑھئے: جموں۔کشمیر: امت شاہ کااپوزیشن پر طنز، بغیرنام لئے عبداللہ فیملی و محبوبہ مفتی پربولا حملہ


      وزیر اعظم نریندر مودی نے زیلینسکی سے کہا کہ ہندوستان امن کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔ وزیر اعظم مودی نے زیلنسکی سے کہا کہ یوکرین بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہوسکتا، ہندوستان کسی بھی امن کی کوشش میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔

      اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے سربراہوں کے درمیان دوطرفہ معاملات پر بھی گفتگو ہوئی ۔ اس سے پہلے دونوں لیڈروں کے درمیان پچھلے سال نومبر میں گلاسگو میں دوطرفہ بات چیت ہوئی تھی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: